آب حیات/تمہید شیخ امام بخش ناسخ کے حال کی​

بزرگان قدیم کی عمدہ یادگار مخدومی مولوی محمد عظیم اللہ صاحب ایک صاحب فضل و عاشق کمال غازی پور زمینہ (زمانیہ) کے رئیس ہیں۔ اگرچہ بزرگوں کا حال بہ تفصیل معلوم نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ قاضی القضاۃ مفتی اسد اللہ صاحب کی ہمشیرہ یعنی شاہ اجمل صاحب کی نواسی سے ان کی شادی ہوئی۔ مولوی صاحب موصوف کے والد کی شیخ امام بخش ناسخؔ سے نہایت دوستی تھی۔ میرے دوستو! اگلے وقتوں کی دوستیاں کچھ اور دوستیاں تھیں۔ آج تمھارے روشنی کے زمانہ میں ان کی کیفیت بیان کرنے کو لفظ نہیں ملتے جن سے ان کے خیالوں کا دلوں میں عکس جماؤں۔ ہائے اُستاد ذوقؔ

اب زبان پر بھی نہیں آتا کہیں الفت کا نام

اگلے مکتبوں میں کچھ رسم کتابت ہو تو ہو​

غرض جذب جنسیت اور اتحاد طبیعت ہمیشہ مولوی صاحب کے والد کو غازی پور سے لکھنؤ کھینچ کر لے جاتا تھا۔ مہینوں وہیں رہتے تھے۔ مولوی صاحب کا پانچ برس کا سِن تھا۔ یہ بھی والد کے ساتھ ہوتے تھے۔ اسوقت سے شیخ ناسخؔ کی خدمت میں رہے اور سالہا سال فیض حضوری سے بہرہ یاب ہوئے۔ رغمی تخلص انھیں نے عنایت فرمایا۔ جس سے ۱۲۵۰؁ھ سال تلمذ نکلتے ہیں۔ عربی، فارسی کی کتب تحصیلی الہ آباد اور لکھنؤ میں حاصل کیں۔ اُردو فارسی کی انشاء پردازی میں ککئی مجلد لکھ کر چھوڑے ہیں۔ جانتے ہیں کہ ان کی فصل اب بالکل نئی نکل گئی۔ ہوا مخالف ہے، اسلئے آپ گوشہ عافیت سے نکلتے ہیں۔ نہ انھیں نکالتے ہیں، عہد جوانی میں سرکار سے بھی بااقتدار اور معزز عہدے حاصِل کئے۔ اب بڑھاپے نے پنشن خوار بنا کر خانہ نشین کر دیا ہے، بندہ آزاد کو اسی آب حیات کی بدولت اُن کی خدمت میں نیاز حاصل ہوا۔ انھوں نے بہت حالات شیخ موصوف کے لکھ کر گرانبار احسان فرمایا جو کہ اب طبع ثانی میں درج ہوتے ہیں۔ آزادؔ ان کا صدق دل سے ممنون احسان ہمیشہ عنایت ناموں سے ممنون فرماتے رہتے ہیں جن کے حرف حرف سے محبت کے آب حیات ٹپکتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہم لوگ اس زمانہ کے لیے بالکل اجنبی ہیں، نئی روشنی والے کہتے ہیں کہ روشنی نہیں، روشنی نہیں، جناب رغمیؔ اور بندہ آزادؔ کی آنکھوں سے کوئی دیکھے کہ دُنیا اندھیر ہے۔

سراغ یک نگاہِ آشنا ازکس نمے یا بم

جہاں چوں نرگستاں بے تو شہر کورمے باشد​

اب تک زیارت نہیں ہوئی۔ (رغمی سلمٰہ اللہ فرماتے ہیں انکے والد لاہور گئے تھے۔ بنفشہ اور زعفران وغیرہ اشیائے قیمتی کابل و کشمیر کی تجارے کرتے تھے۔ شیخ مرحوم بعالم خورد سالی ہمراہ تھے۔) مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی انجان آدمی ایک نئے ملک میں جا پڑے، جہاں وہ نہ کسی کی سمجھے نہ کوئی اس اور وہ ہکّا بکّا ایک ایک کا منھ دیکھے۔ اسی طرح وہ بھی آج کل کے لوگوں کا منھ دیکھ رہے ہیں۔ کجا ناسخّ و آتش کے مشاعرے اور کجا کمیٹیوں کے جلسے شیخ صاحب اور خواجہ صاحب کے حالات جو انھوں نے لکھ کر بھیجے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آنکھوں کے آنسو تھے۔ حرفوں کے رنگ میں بہہ نکلے ہیں، یہ درد کوئی آزادؔ کے دل سے پوچھے کہ جب شیخ ابراہیم ذوقؔ کا نام آتا ہے چھاتی پر سانپ لوٹ جاتا ہے۔

بنال بلبل اگر بامنت سر یاری ست

کہ مدع و عاشقِ زا ریم کار ما زاری ست​

شیخ ناسخؔ کا حال لکھتے لکھتے کہتے ہیں "کیا کہوں کہ میرے حال پر کیسی شفقت فرماتے تھے۔ دو دیوان کود لکھ کر مجھے دیئے، ایک مہر عقیق پر کھدوا کر مجھے دی، اب تک موجود ہے۔ رغمی سلمٰہ اللہ نے جونپور اور غازی پور وغیرہ کے حالات بھی بھیجے ہیں۔ جن کی بدولت دربار اکبری ہمیشہ شکر گزار رہے گا۔ خدا کرے کہ جلد وہ مرقع سج کر اہل نظر کی پیش گاہ میں جلوہ گر ہو۔

شیخ امام بخش ناسخؔ کا حال شیخ صاحب کی شاعری کا وطن لکھنؤ ہے۔ مگر کمال سے لاہور کو فخر کرنا چاہیے، جو ان کے والد کا وطن تھا۔ خاندان کے باب میں فقط اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ خدا بخش خیمہ دوز کے بیٹے تھے۔ اور بعض اشخاص کہتے ہیں کہ اس دولت مند لاولد نے متنبٰے کیا تھا۔ اصلی والد عالم غربت میں مغرب سے مشرق کو گئے۔ فیض آباد میں ان کی قسمت سے یہ ستارہ چمکا کہ فلکِ نظم کا آفتاب ہوا۔

خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال

کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے​

غریب باپ سے صاحب نصیب بیٹھے کے سوا وہاں بھی نصیبہ نے رفاقت نہ کی، مگر اس دولت مند سوداگر نے کہ لاولد تھا بلند اقبال لڑکے کو فرزندی میں لے کر ایسا تعلیم و تربیت کیا کہ بڑے ہو کر شیخ امام بخش ناسخؔ ہو گئے اور اس مجازی باپ کی بدولت دُنیا کی ضروریات سے بے نیاز رہے، تو مر گیا تو اس کے بھائیوں نے دعوےٰ کیا، انھوں نے کہا کہ مجھے مال و دولت سے کچھ غرض نہیں، جس طرح ان کو باپ سمجھتا تھا، آپ کو سمجھتا ہوں کہ جس طرح وہ میری ضروریات کی خبرگیری کرتے تھے اس طرح آپ فرمائیے، انھوں نے قبول کیا۔

ناسخؔ فساد خون کے سبب سے ایک موقع پر فقط بیسنی روٹی گھی میں چور کر کھایا کرتے تھے۔ بدنیت چچا نے اس میں زہر دیا۔ لوگوں نے یہ مصالح لگایا کہ ایک جن ان کا دوست ہے۔ ان نے آگاہ کیا (حکایت عنقریب روایت کی جاتی ہے) بہرحال کسی قرینہ سے انھیں معلوم ہو گیا، اسی وقت چند دوستوں کو بلا کر ان کے سامنے ٹکڑا کتّے کو دیا۔ آخر ثابت ہوا کہ فی الحقیقتہ اس میں زہر تھا۔ چند روز کے بعد وراثت کا جھگڑا عدالت شاہی تک پہونچا، جس کا فیصلہ شیخ مرحوم کی جیت پر ہوا۔ اس وقت انھوں نے چند رباعیاں کہہ کر دل خالی کیا۔ دو ان میں سے یہ ہیں۔

مشہور ہے گرچہ افترائے اعمام
پر کرتے نہیں غور خواص اور عوام

وارث ہونا دلیل فرزندی ہے
میراث نہ پا سکا کبھی کوئی غلام

کہتے رہے اعمام عداوت سے غلام
میراث پدر پائی مگر میں نے تمام

اس دعویٰ باطل سے ستمگاروں کو
حاصل یہ ہوا کر گئے مجھ کو بدنام​

غور کرو تو متنبٰے ہونا کچھ عیب کی بات نہیں۔ دنیا کی غریبی، امیری، جاڑے اور گرمی کی طرح بدلتی رہتی ہے۔ ایک امیر الامراء کو صرف چند پشت کے اندر دیکھو تو ممکن نہیں کہ ایک وقت اس کے گھر میں افلاس کا گزر نہ ہوا ہو، البتہ وہ بے استقلال قابل ملامت ہے کہ اس عالم میں رحمتِ الہٰی کا انتظار نہ کر سکے اور ایسے کام کر گزرے جو نام پر داغ دے جائیں۔ غرض شیخ صاحب کے اس معاملہ کو حریفوں نے بدرنگ لباسوں میں دکھایا ہے جس کا ذکر عنقریب آتا ہے، وہ فیض آباد میں تھے۔ لکھنؤ کے دارالخلافہ ہو جانے سے وہاں آئے اور وہیں عمر بسر کی۔ ٹکسال ایک محلہ مشہور ہے، اس میں بیٹھ کر شعر کے چاندی سونے پر سکّہ لگاتے تھے۔ اور کھوٹے کھرے مضمون کر پرکھتے تھے۔

فارسی کی کتابیں حافظ وارث علی لکھنوٰ سے پڑھی تھیں، اور علمائے فرنگی محل سے بھی تحصیلی کتابیں حاصل کی تھیں۔ اگرچہ عربی استعداد فاضلانہ نہ تھی مگر رواج علمی اور صھبت کی برکت سے فن شاعری کی ضروریات سے پوری واقفیت تھی اور نظم سخن میں ان کی نہایت پابندی کرتے تھے۔

شاعری میں کسی کے شاگرد نہ تھے۔ مگر ابتدا سے شعر کا عشق تھا (مولٰنا رغمی) فرماتے ہیں مجھ سے خود شیخ صاحب نے آغاز شاعری کا حال نقل فرمایا کہ میر تقی مرحوم ابھی زندہ تھے۔ جو مجھے ذوق سخن نے بے اختیار کیا۔ ایک دن اغیار کی نظر بچا کر کئی غزلیں خدمت میں لے گیا۔ انھوں نے اصلاح دی (انکی طبیعت اور زبان دونوں ان سے میل کھانے والی تھیں اور بے دماغی اسپر طرہ، افسوس میر صاحب نے جو الفاظ فرمائے ہونگے سننے کے قابل ہونگے مگر شیخ صاحب نے وہ کسی کو کب سنائے ہونگے۔)، میں دل شکستہ ہو کر چلا آیا، اور کہا، میرؔ صاحب بھی آخر آدمی ہیں۔ فرشتہ تو نہیں، اپنے کام کو آپ ہی اصلاح دوں گا۔ چنانچہ کہتا تھا اور کہہ چھوڑتا تھا، چند روز کے بعد پھر دیکھتا، جو سمجھ میں آتا اصلاح کرتا اور رکھ دیتا، کچھ عرصہ کے بعد پھر فرصت میں نظرثانی کرتا اور بناتا۔ غرض مشق کے سلسلہ برابر جاری تھا۔ لیکن کسی کو سناتا نہ تھا جب تک خوب اطمینان نہ ہوتا، مشاعرہ میں غزل نہ پڑھی، نہ کسی کو سنائی۔ مرزا حاجی صاحب (رقعات مرزا قتیل میں ان کا ذکر اکثر آتا ہے۔ نہایت رسا اور صاحب عقل اور باتدبیر شخص تھے۔ نواب سعادت علیخاں اور صاحب رزیڈنٹ کے درمیان میں واسطہ ہو کر مقدمات سلطنت کو روبراہ کرتے تھے۔ لاکھوں روپے کی املاک بہم پہنچائی تھی۔ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے اہل عالم کو امیرانہ شان دکھاتے تھے۔ علم و فضل اور شعر و سخن کا شوق تھا۔ اسلئے اکثر اہل کمال انکے مکان پر جمع ہوتے تھے۔ )

کے مکان پر مشاعرہ ہوتا تھا، سید انشاءؔ، مرزا قتیل، جراءتؔ، مصحفیؔ وغیرہ سب شعراء جمع ہوتے تھے۔ میں جاتا تھا، سب کو سنتا تھا مگر وہاں کچھ نہ کہتا تھا۔ ان لوگوں میں جو لون مرچ سید انشاء اور جراءت کے کلام میں ہوتا تھا، وہ کسی زبان میں نہ تھا۔ غرض سید انشاءؔ اور مصحفی کے معرکے بھی ہو چکے۔ جراءت اور ظہور اللہ خاں نواؔ کے ہنگامے بھی طے ہو گئے۔

جب زمانہ سارے ورق اُلٹ چکا اور میدان صاف ہو گیا تو میں نے غزل پڑہنی شروع کی۔ اس موقع پر مرزا حاجی صاحب، مرزا قتیل اور حاجی محمد صادق اختر (اختر اپنے زمانہ کے ایک جامع الکمالات شخص تھے اور اکثر شاعرانہ اور عالمانہ تنازعہ ان کے سامنے آ کر فصیل ہوتے تھے۔) نے بڑی قدردانی کی۔ اور ان کے دل بڑھانے سے کلام نے روز بروز رنگ پکڑنا شروع کیا۔ لوگوں کے دلوں میں بھی یہاں تک شوق پیدا ہوا کہ چوغزلہ کہہ کر پڑھتا تھا۔ پھر بھی مشتاق رہ جاتے تھے منتظرؔ اور گرمؔ (منتظرؔ اور گرمؔ شیخ مصحفیؔ کے نامور شاگرد تھے۔)کے موت نے ٹھنڈا کیا۔ خواجہ حیدر علی آتشؔ، شیخ مصحفی کے ارشد تلامذہ نے محاورہ بندی میں نام نکالا۔ ایک دفعہ کئی مہینے بعد فیض آباد سے آئے۔ مشاعرہ میں جو میری غزلیں سنیں تو سانپ کی طرح پیچ و تاب کھایا اور اسی دن سے بگاڑ شروع ہوا، انھوں نے آتش رشک کی جلن میں اس جانکاہی اور سینہ خراشی سے غزلیں کہیں کہ سینہ سے خون آنے لگا۔

غرض شیخ صاحب کا شوق ہمیشہ مشاعرہ میں لے جا کر دل میں اُمنگ اور طبیعت میں جوش بڑھاتا تھا، اور آسودہ حالی اکثر شعراء، اہل فہم اور اہل کمال کو ان کے گھر کھینچ لاتی تھی۔ ان کی صحبتوں میں طبیعت خود بخود اصلاح پاتی گئی۔ رفتہ رفتہ خود اصلاحیں دینے لگے۔ بعض سنِ رسیدہ اشخاص سے سنا گیا کہ ابتدا میں شیخ مصحفیؔ سے اصلاح لیتے تھے۔ مگر کسی شعر پر ایسی تکرار ہوئی کہ انھوں نے ان کا آنا بند کر دیا۔ یہ بطور خود غزلیں کہتے رہے اور تنہاؔ تخلص ایک شخص تھے اِن سے تنہائی میں مشورت کرتے رہے، جب اطمینان ہوا تو مشاعروں میں غزل پڑھنے لگے۔ لیکن مصحفیؔ والی روایت قابل اعتبار نہیں، کیوں کہ انھوں نے اپنے تذکرہ میں تمام شاگردوں کے نام لکھ دیئے ہیں۔ ان کا نام نہیں ہے (مولانا رغمی فرماتے ہیں) :-

پہلوان سخن کو ابتدائے عمر سے ورزش کا شوق تھا۔ خود ورزش کرتے تھے بلکہ احباب کے نوجوانوں میں جو حاضر خدمت ہوتے اور ان میں سے کسی ہونہار کو ورزش کا شوق دیکھتے تو خوش ہوتے اور چونپ دلاتے۔ ۱۲۹۷ دنٹر کا معمول تھا کہ یاغفور کے عدد ہیں۔ یہ وظیفہ قضا نہ ہوتا تھا، البتہ موقع اور موسم پر زیادہ ہو جاتے تھے۔ انھیں جیسا ریاضت کا شوق تھا ویسا ہی ڈیل بھی لائے تھے۔ بلند بالا، فراخ سینہ، مُنڈا ہوا سر، کھاردے کا لنگ باندھے بیٹھے رہتے تھے جیسے شیر بیٹھا ہے۔ جاڑے میں تن زیب کا کرتہ، بہت ہوا تو لکھنؤ کی چھیٹ کا دوہرا کرتا پہن لیا۔

دن رات میں ایک دفعہ کھانا کھاتے تھے۔ ظُہر کے وقت دسترخوان پر بیٹھتے تھے، اور کئی وقتوں کی کسر نکال لیتے تھے۔ پان سیر پختہ وزن شاہجہانی کی خوراک تھی، خاص خاص میووں کی فصل ہوتی تو جس دن کسی میوہ کو جی چاہتا اس دن کھانا موقوف، مثلاً جامنوں کو جی چاہا، لگن اور سینیاں بھر کر بیٹھ گئے، ۴، ۵ سیر وہی کھا ڈالیں۔ آموں کا موسم ہے تو ایک دن کئی ٹوکرے منگا کر سامنے رکھ لیے، ناندوں میں پانی ڈلوایا، ان میں بھرے اور خالی کر کے اُٹھ کھڑے ہوئے، بھّٹے کھانے بیٹھے تو گٹھلیوں کے ڈھیر لگا دیئے اور یہ اکثر کھایا کرتے تھے۔ دودھیا بھٹے چُنے جاتے، چاقو سے دانوں پر خط ڈال کر لون مرچ لگتا، سامنے بُھنتے ہیں، لیمو چھڑکتے ہیں، اور کھاتے جاتے ہیں۔ میوہ خوری ہر فصل میں دو تین دفعہ بس اور اس میں دو (۲) چار دوست بھی شامل ہو جاتے تھے۔

کھانا اکثر تخلیہ میں کھاتے تھے، سب کو وقت معلوم تھا، جب ظہر کا وقت قریب ہوتا تھا تو رخصت ہو جاتے تھے (رغمیؔ سلمہ اللہ فرماتے ہیں) مجھے چند مرتبہ ان کے ساتھ کھانے کا اتفاق ہوا، اس دن نہاری اور نان تافتان بھی بازار سے منگائی تھی۔ پانچ، چار پیالوں میں قورمہ، کباب، ایک میں کسی پرندہ کا قورمہ تھا، شلغم تھے، چقندر تھے۔ ارہر کی دال، دھوئی ماش کی دال تھی۔ اور وہ دسترکوان کا شیر اکیلا تھا۔ مگر سب کو فنا کر دیا، یہ بھی قاعدہ تھا کہ ایک پیالہ میں سے جتنا کھانا ہے خوب کھا لو اسے خدمتگار اٹھا لیگا دوسرا سامنے کر دے گا۔ یہ نہ ہو سکتا تھا کہ ایک نوالہ کو دو سالنوں میں ڈالکر کھا لو، کہا کرتے تھے کہ مِلا جلا کر کھانے میں چیز کا مزہ جاتا رہتا ہے۔ اخیر میں پلاؤ چلاؤ یا خشک کھاتے تھے۔ پھر دال اور ۵-۶ نوالوں کے بعد ایک نوالہ چٹنی، اچار یا مربے کا، کہا کرتے تھے کہ تم جوانوں سے تو میں بڈھا ہی اچھا کھاتا ہوں۔ دسترخوان اٹھتا تھا، تو دو خوان فقط خالی باسنوں کے بھرے اٹھتے تھے، قوی ہیکل بلونت جوان تھے، ان کی صورت دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ ۴، ۵ سیر کھانا ان کے لئے کیا کمال ہے۔

زمانہ کی زبان کون پکڑ سکتا ہے، بے ادب، گُستاخ، دم کٹے بھینسے کی پھبتی کہا کرتے تھے۔ اسی رنگ و روغن کی رعایت سے خواجہ صاحب نے چوٹ کی۔

رُو سیہ دشمن کا یوں پاپوش سے کیجئے فگار

جیسے سلہٹ کی سپر پر زخم ہو شمشیر کا​

شیخ صاحب نے خود بھی اس کا عذر کیا ہے اور شاگرد بھی روغن قاز مل ملکر اُستاد کے رنگ کو چمکاتے تھے، اور حریف کے رنگ کو مٹاتے تھے۔ فقیر محمد خاں گویاؔ نے کہا تھا :-

ہے یقیں گل ہو جو دیکھے گیسوئے دلبر چراغ

آگے کالے کے بھلا روشن رہے کیونکر چراغ


میں گو کہ حُسن سے ظاہر میں مثل ماہ نہیں

ہزار شکر کہ باطن مرا سیاہ نہیں


فروغِ حسن پہ کب زور زلف چلتا ہے

یہ وہ چراغ ہے کالے کے آگے جلتا ہے​

پہلوانِ سخن زور آزمائی کے چرچے اور ورزش کی باتوں سے بہت خوش ہوتے تھے۔ رغمی سلمٰہ اللہ کے والد بھی اِس میدان کے جوان مرد تھے، رغبتوں کے اتحاد ہمیشہ موافقت صھبت کے لئے سبب ہوتے ہیں۔ اس لیے محبت کے ہنگامے گرم رہتے تھے۔

آغا کلب حسین خاں مرحوم انھیں اکثر بلایا کرتے تھے۔ اور مہینوں مہمان رکھتے تھے۔ ان سے بھی فقط ذوقِ شعر کا تعلق نہ تھا۔ وہ بھی ایک شہ زور شہسوار ورزشی جوان تھے۔ سامان امیرانہ اور مزاج دوستانہ رکھتے تھے، چنانچہ ایک موقع پر کہ آغاؔ صاحب سورام سرحد نوابی پر تحصیل دار ہو کر آئے، شیخ صاحب کو بلا بھیجا کہ چند روز سبزہ و صحرا کی سیر سے طبیعت کو سیرا ب فرمائیے، ایک دن بعض اقسام کے کھانے خاص شیخ صاحب کی نیت سے پکوائے تھے اس لیے وقت معمول سے کچھ دیر ہو گئی۔ شیخ صاحب نے دیکھا کہ حرم سرا کی ڈیوڑھی سے نوکر اپنے اپنے کھانے لے کر نکلے، بلا کر پوچھا کہ یہ کس کے لیے ہے؟ عرض کی ہمارا کھانا ہے۔ فرمایا اِدھر لاؤ۔ ان میں سے ۴، ۵ کا کھانا سامنے رکھوا لیا۔ چاٹ پونچھ کر باسن حوالے کئے اور کہا ہمارا کھانا آئے گا تو تم کھا لینا۔ آغا صاحب کو خبر جا پہنچی، اتنے میں آئے، یہاں کام ختم ہو چکا تھا۔

جناب مخدوم و مکرم آغا کلب عابد خاں صاحب (مرزا محمد تقی خاں اور محمد شفیع خاں دو بھائی نادر شاہ کے مصاحب تھے۔ ان میں سے محمد تقی خاں انکے دادا تھے۔ شاہ مذکور کا قہر و غضب عالم پر روشن ہے۔ محمد شفیع کو زندہ آگ میں جلوا دیا۔ یہ دل برداشتہ ہو کر ہندوستان میں آئے۔ نواب منصور علیخاں صفدر جنگ کے بزرگوں سے اور ان کے بزرگوں سے ایران میں اتحاد تھا چنانچہ اسی سلسلہ سے یہاں ملاقات ہوئی۔ نواب صاحب کمال محبت سے پیش آئے اور بادشاہ دہلی کے دربار سے کچھ خدمت دلوانی چاہی۔ جب انھوں نے منظور نہ کی تو علاقہ اوودھ سے دس ہزار روپیہ کی جاگیر کر دی۔ شیخ علی حزیں بنارس میں تھے۔ ان سے اور اُن سے وطن میں بہت دوستی تھی۔ اس لئے بنارس میں جا کر رہے۔ شیخ مرحوم ابھی زندہ تھے کہ انھوں نے انتقال کیا۔ شیخ نے جو سروایہ اپنے لئے بنوایا تھا اسکے پہلو میں دفن کیا اور بہت سے اپنے شعر قبر پر لکھے کہ ابتک قائم ہیں۔ ان کے بیٹے کلب علیخاں مرحوم نے سرکار انگریزی میں بزرگوں کی عزت کو روشن کیا۔ راجہ بنارس خورد سال تھے۔ان کے علاقہ کا کام سپرد ہوا۔ چنانچہ چار علاقے جن کی آمدنی ۴۹ لاکھ روپیہ تھی ان کے مالئے اور فوجداری کے کل اختیارات ان کے ہاتھ میں تھے۔ ان کے بیٹے ڈپٹی کلب حسین خانصاحب ہوئے۔ انکے بیٹے آغا کلب عابد خاں صاحب ہیں جو فی الحال امرت سر میں درجہ اول کے اکسٹرا اسسٹنٹ ہیں، قابلیت، متانت اور مروّت اور وضعداری میں ایک سندی یادگار بزرگان سلف کی ہیں۔) نے بھی اس حکایت کی تصدیق فرمائی اور کہا کہ ان کے مزاج میں شوریدگی ضرور تھی، اگرچہ ان دنوں خورد سال تھا، مگر ان کا بارہا آنا اور رہنا اور ان صحبتوں کی شعر خوانیاں خصوصاً مقام سورام کی کیفیتیں سب ہوبہو پیش نظر ہیں۔ انھیں بالا خانہ پر اتارا تھا، بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ بیٹھے ہیں، کھاتے کھاتے سالن کا پیالہ اٹھایا اور کھڑکی میں سے پھینک کر مارا کہ وہ جا پڑا، سبب دیکھا تو کچھ نہ تھا۔

یہ بھی معمول تھا کہ پہر رات رہے سے ورزش شروع کرتے تھے۔ صبح تک اس سے فارغ ہوتے تھے۔ مکان مردانہ تھا، عیال کا جنجال رکھا ہی نہ تھا، اول نہائے اور پھر صحن میں کہ صفائی سے آئینہ رہنا تھا۔ مونڈھے بچھے ہیں۔ اندر ہیں تو فرش اور سامان آرائش سے آراستہ ہے، صبح سے احباب اور شاگرد آنے شروع ہوتے تھے۔ دوپہر کو سب رخصت اور دروازہ بند حضرت دسترخوان پر بیٹھے، یہ بڑا کام تھا۔ چنانچہ اس بھاری بوجھ کو اتھا کر آرام فرمایا۔ عصر سے پھر آمد شروع ہوئی، مغرب کیوقت سب رخصت، دروازہ بند، خدمتگار کر بھی باہر کیا اور اندر سے قفل جڑ دیا۔ کوٹھے پر ایک کمرہ خلوت کا تھا۔ وہاں گئے کچھ دیر سو رہے اور تھوڑی دیر بعد اٹھ کر فکر سخن میں مصروف ہوئے۔ عالم خواب غفلت میں پڑا تھا اور وہ خواب راحت کے عوض کاغذ پر خون جگر ٹپکاتے تھے (اُستاد مرحوم کا ایک مطلع یاد آ گیا، جس کا مصرعہ آخر اِس پر نگینہ ہو گیا)۔

میر اگر یہ ترے رُخسار کو چمکاتا ہے تیل اِس آگ پہ تل آنکھ کا ٹپکاتا ہے

شاگرد جو غزلیں اصلاح کو دیتے تھے۔ نوکر انھیں ایک کھاردے کی تھیلی میں بھر کر پہلو میں رکھ دیتا تھا، وہ بنایا کرتے تھے، جب پچھلا پہر ہوا تو کاغذ تہ ہوئے اور پھر وہی ورزش۔

حقّہ کا بہت شوق تھا۔ عمدہ عمدہ حقّے منگاتے تھے۔ تحفوں میں آتے تھے۔ انہیں موزوں نیچوں سے سجاتے تھے۔ کلیاں، گڑگڑیاں، سٹک، پیچوان چوگانی، مدرے وغیرہ وغیرہ ایک کوٹھری بھرے ہوئے تھی۔ یہ نہ تھا کہ جلسہ میں دو حقے ہیں وہ دورہ کرتے ہیں۔ ہر ایک کے موافق طبع الگ اس کے سامنے آتا تھا، ان صحبتوں میں بھی شاگردوں کے لئے اصلاح اور افادہ ہو جاتا تھا۔

آداب محفل کا بہت خیال تھا، آپ تکیہ سے لگے بیٹھے رہتے تھے، شاگرد جن میں اکثر امیر زادے شرفا ہوتے تھے، باادب بچھونے کے حاشیہ پر بیٹھتے جاتے، دم مارنے کی مجال نہ تھی۔ شیخ صاحب کچھ سوچتے، کچھ لکھتے جب کاغذ ہاتھ سے رکھتے تو کہتے ہوں! ایک شخص غزل سنانی شروع کرتا، کسی شعر میں کوئی لفظ قابل تبدیل ہوتا یا پس و پیش کے تغیر سے کام نکلتا تو اصلاح فرماتے، نہیں تو کہہ دیتے یہ کچھ نہیں نکال ڈالو، یا اس کا پہلا یا دوسرا مصرعہ اچھا نہیں، اسے بدلو، یہ قافیہ خوب ہے مگر اچھے پہلو سے نہیں بندھا۔ طبیعت پر زور ڈال کر کہو، جب وہ شخص پڑھ چکتا تو دوسرا پڑھتا اور کوئی بول نہ سکتا تھا۔

لکھنؤ کے امیرزادے جنھیں کھانے کے ہضم کرنے سے زیادہ کوئی کام دشوار نہیں ہوتا، ان کے وقت گزارنے کے لیے مصاحبوں نے ایک عجیب چورن تیار کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ صاحب سے ایک جن کو محبت تھی۔ ان کا معمول تھا ورزش کے بعد صبح کو ایک سینی پراٹھا گھی میں ترتراتا کھایا کرتے تھے۔ اول اول ایسا ہوتا رہا، جب کھانے بیٹھتے، پراٹھا برابر غائب ہوتا چلا جاتا، یہ سوچتے مگر کوئی بات سمجھ میں نہ آتی، بالا خانہ میں دروازہ بند کر کے اکیلے ورزش کیا کرتے تھے، ایک دن مگدر ہلا رہے تھے دیکھتے کیا ہیں ایک شخص اور سامنے کھڑا مگدر ہلا رہا ہے۔ حیران ہوئے بدن میں جوانی اور پہلوانی کا بل تھا، لپٹ گئے، تھوڑی دیر زور ہوتا رہا، اسی عالم میں پوچھا کہ تو کون ہے۔ ان نے کہا تمھاری ورزش کا انداز پسند آیا ہے اسلئے کبھی کبھی اِدھر آ نکلتا ہوں، اکثر کھانے میں بھی شریک ہوتا ہوں، مگر بغیر اظہار کے محبت کا مزا نہیں آتا۔ آج ظاہر کیا، اس دن سے ان کی راہ ہو گئی۔ اسی نے ظاہر کے راز سے بھی آگاہ کیا تھا۔ بعض اشخاص کہتے ہیں پُر خوری کے سبب سے لوگ کہتے تھے کہ ان کے پیٹ میں جن ہے۔

کسی کی نوکری نہیں کی۔ سرمایہ خداداد اور جوہر شناسوں کی قدردانی سے نہایت خوش حالی کے ساتھ زندگی بسر کی۔ پہلی دفعہ الہ آباد میں آئے ہوئے تھے جو راجہ چندو لال نے ۱۲ ہزار روپے بھیج کر بلا بھیجا۔ انھوں نے لکھا کہ اب میں نے سیّد کا دامن پکڑا ہے اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ یہاں سے جاؤں گا تو لکھنؤ جاؤں گا، راجہ موصوف نے پھر خط لکھا بلکہ پندرہ ہزار روپے بھیج کر بڑے اصرار سے کہا کہ یہاں تشریف لائیے گا تو ملک الشعراء خطاب دلواؤں گا، حاضری دربار کی قید نہ ہو گی، ملاقات آپ کی خوشی پر رہے گی۔ انھوں نے منظور نہ کیا اور روپے آغا کلب حسین خاں کے پاس رکھوا دیے، جب ضرورت ہوتی منگا لیتے اور ان پر کیا منحصر ہے، نواب معتمد الدولہ اور ان کے بیٹے ہمیشہ خدمت کو حاضر تھے۔ تحفے نذرانے جابجا سے آتے رہتے تھے۔ یہ بھی کھاتے اور کھلاتے ہی رہتے تھے۔ سادات، اہل حج، اہل زیارت کو دیتے تھے اور آزادی کے عالم میں جہاں جی چاہتا وہاں جا بیٹھتے۔ جس کے ہاں جاتے وہ اپنا فخر سمجھتا تھا۔

سیّاحی کی مسافت فیض آباد سے لکھنؤ اور وہاں سے الہ آباد بنارس عظیم آباد، پٹنہ تک رہی، چاہا تھا کہ شیخ علی حزیںؔ کی طرح بنارس میں بیٹھ جائیں۔ چنانچہ الہ آباد سے وہیں گئے مگر اپنی ملّت کے لوگ نہ پائے اس لئے دل برداشتہ ہو کر عظیم آباد گئے۔ وہاں کے لوگ نہایت مروّت اور عظمت سے پیش آئے مگر ان کا جی نہ لگا، گھبرا کر بھاگے اور کہا یہاں میری زبان خراب ہو جائے گی۔ الہ آباد آئے۔ پھر شاہ اجمل کے دائرہ میں مرکز پکڑا اور کہا۔

ہر پھر کے دائرہ ہی میں رکھتا ہوں میں قدم

آئی کہاں سے گردش پرکار پاؤں میں​

لکھنؤ سے نکلنے کا سبب یہ ہوا تھا کہ غازی الدین حیدر کے عہد میں جب ان کی تعریفوں کی آوازیں بہت بلند ہوئیں تو انھوں نے نواب معتمد الدولہ آغا میر اپنے وزیر سے کہا کہ اگر شیخ ناسخؔ ہمارے دربار میں آئیں اور قصیدہ سنائیں تو ہم انھیں ملک الشعراء کا خطاب دیں۔ معتمد الدولہ ان کے بااخلاص شاگرد تھے۔ جب یہ پیغام پہنچایا تو انھوں نے بگڑ کر جواب دیا کہ مرزا سلیمان شکوہ (مرزا سلیمان شکوہ اکبر شاہ کے بھائی تھے۔ دلّی چھوڑ کر لکھنؤ جا رہے تھے۔ سرکار لکھنؤ کی بدولت شکوہ و شان کی زندگی بسر کرتے تھے۔) بادشاہ ہو جائیں تو وہ خطاب دیں۔ یا گورنمنٹ انگلشیہ خطاب دے، ان کا خطاب لیکر میں کیا کروں گا۔ نواب مے مزاج میں کچھ وحشت بھی تھی۔ حسب الحکم شیخ صاحب کو نکلنا پڑا اور چند روز الہ آباد میں جا کر رہے۔ نواب مر گئے تو پھر لکھنؤ میں آئے، چند روز کے بعد حکیم مہدی جن کے بزرگ کشمیری تھے شاہ اودھ کی سرکار میں مختار تھے وہ ایک بدگمانی میں معزول ہو کر نکلے، چونکہ وہ نواب آغا میر کے رقیب تھے، شیخ صاحب نے تاریخ کہی، جس کا مادہ ہے ۔

مصرعہ : کاشو برائے پختن شلغم گریختہ​

مشکل یہ کہ چند روز کے بعد وہ پھر بحال ہو کر آ گئے۔ شاعر نے الہ آباد کو گریز کی۔ لیکن اکثر غزلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لکھنؤ سے جدا ہوئے تڑپتے اور دن ہی گنتے رہے (ایک شعر میں بھی لکھا ہے)۔

دشت سے کب وطن کو پہنچوں گا

کہ چھٹا اب تو سال آ پہنچا​

حکیم مہدی کو دوبارہ زدال ہوا تو انھوں نے پھر تاریخ کہی، نیا انداز ہے اس لئے لکھتا ہوں :-

از جائے حکیم ہشت برگیر

سہ مرتبہ نصف نصف کم کن

(۱۲۴۸ھ)​

اب کی دفعہ جو آئے تو ایسے گھر میں بیٹھے کہ مر کر بھی نہ اُٹھے، گھر ہی میں دفن ہوئے۔ میر علی اوسط رشکؔ ان کے شاگرد رشید نے تاریخ کہی۔

مصرعہ : ولا شعر گوئی اٹھی لکھنؤ سے (۱۲۵۴ھ)​

لوگ کہتے ہیں ۶۴، ۶۵ برس کی عمر تھی۔ مگر رغمی سلمہ اللہ لکھتے ہیں کہ تقریباً سو برس کی عمر ہو گی، اکثر عہد سلف کے معرکے اور نواب شجاع الدولہ کی باتیں آنکھوں سے دیکھی بیان کرتے تھے۔

دیوان تین ہیں مگر دو (۲) مشہور ہیں۔ ایک الہ آباد میں مرتب کیا تھا۔ بے وطنی کا عالم، دل پریشان، غزلیں خاطر خواہ بہم نہ پہونچیں، اس لیئے دفتر پریشان نام رکھا۔ ان میں غزلوں، رباعیوں اور تاریخوں کے سوا اور قسم کی نظم نہیں۔ قصائد کا شوق نہ تھا چنانچہ نواب لکھنؤ کی تاریخ و تہینت میں بھی کبھی کچھ کہا ہے تو "لور قطعہ ہے ہجو کے کانٹوں سے ان کا باغ پاک ہے۔ ایک مثنوی حدیث مفصل کا ترجمہ ہے۔ میر علی اوسط رشک نے اسے ترتیب دیا اور اس کا تاریخی نام نظم سراج بھی رکھا ہے اور ایک مولود شریف بھی شیخ صاحب کی تصنیف ہے۔ عموماً کلام ان کا شاعری کے ظاہری عیبوں اور لفظی سقموں سے بہت پاک ہے، اور اس امر میں انھیں اتنی کوشش ہے کہ اگرچہ ترکیب کی چُستی یا کلام کی گرمی میں فرق آ جائے۔ مگر اُصول ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور بہ سلامت روی قرین مصلحت ہے کیونکہ نئے تصرف اور ایجاد انسان کو اکثر ایسے اعتراضوں کے نشانے پر لا ڈالتے ہیں جہاں سے سرکنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

غزلوں میں شوکت الفاظ اور بلند پروازی اور نازک خیالی بہت ہے اور تاثیر کم، صائب کی تشبیہ و تمثیل کو اپنی صنعت میں ترکیب دے کر ایسی دستکاری اور مینا نگاری فرمائی کہ بعض موقع پر بیدلؔ اور ناصر علی حد میں جا پڑے اور اُردو میں وہ اس سے صاحب طرز قرار پائے۔ انھیں ناسخؔ کہنا بجا ہے، کیوں کہ طرز قدیم کو نسخ کیا، جس کا خود بھی انھیں فکر تھا۔

دیوان کے اخیر میں بہت سی تاریخیں ہیں، اور اکثروں میں نہایت عمدہ اور برجستہ مادے نکالے ہیں۔ شوکت الفاظ کہتی ہے کہ اگر وہ قصیدہ کہتے تو خوب کہتے، مگر افسوس کہ اس طرف توجہ نہ کی۔ (اُردوئے معلٰی میں غالبؔ مرحوم کا ایک خط مرزا حاتم علی مہرؔ کے نام ہے۔ اس میں لکھا ہے ناسخ مرحوم جو تمھارے استاد تھے اور میرے بھی دوست صادق الودود تھے مگر ایک فنی تھے صرف غزل کہتے تھے۔ قصیدہ اور مثنوی میں انہیں کچھ علاقہ نہ تھا۔ اسی کتاب میں چودھری عبد الغفورکے خط میں چند شعر منتخب اساتذہ متقدمین کے لکھ کر تحریر کیا ہے۔ ناسخ کے ہاں کمبر اور آتش کے ہاں بیشتر یہ تیز نشتر ہیں۔)

نظمِ سراج کی نظم و گوں کی رائے میں ان کے رتبہ عالی سے گرمی ہوئی ہے اور چونکہ یا بندی ترجمہ حدیث کی ہے، اس لئے اس پر گرفت بے جا ہے۔ چند شعر نمونے کے طور پر ہیں۔

کی خدا نے جو یہ زبان عطا
ہے بلا شک عطیہ عظمٰے

اس سے ہے مختلف مزوں کی تمیز
اس سے پاتے ہیں لذّتِ ہر چیز

کوئی کڑوی ہے کوئی ہے میٹھی
کوئی نمکین، کوئی کھٹ مِٹھی

کوئی اچھی ہے کوئی زشت و زبوں
مزے سب چیزوں کے ہیں گونا گوں

سب مزوں سے زبان واقف ہے
نہیں اسرار کی یہ کاشف ہے

جو نہ ہو یہ تو کچھ نہ ہو معلوم
نہ ہو کوئی مزا کبھی مفہوم

اور بھی ہوتے ہیں زبان سے کام
ہے ممد وقت بلع آب و طعام

اس سے احکام بہر دنداں ہے
قوتِ تام بہر دنداں ہے​

کوئی ناواقف شخص شائق کلام آتا تو چند بے معنی غزلیں بنا رکھی تھیں۔ ان میں کوئی شعر پڑھتے یا اسی وقت چند بے ربط الفاظ جوڑ کر موزوں کر لیتے اور سناتے۔ اگر ہو سوچ میں جاتا اور چپ رہ جاتا تو سمجھتے تھے کہ کچھ سمجھتا ہے۔ اُسے اور سناتے تھے اور اگر اس نے بے تحاشاتعریف کرنی شروع کر دی تو اسی طرح کے ایک دو شعر پڑھ کر چپکے ہو رہتے تھے۔ مثلاً :

آدمی مخمل میں دیکھے مورچے بادام میں

ٹوٹی دریا کی کلائی زلف اُلجھی بام میں


تو نے ناسخؔ وہ غزل آج لکھی ہے کہ ہوا

سب کو مشکل ید بیضا میں سخن داں ہونا​

بلکہ اکثر خود سناتے بھی نہ تھے۔ جب کوئی آتا اور شعر کی فرمایش کرتا تو دیوان اٹھا کر سامنے رکھ دیتے تھے کہ اس میں سے دیکھ لیجیے۔ دو تین خوش نویس کاتب بھی نوکر رہتے تھے۔ دیوان کی نقلیں جاری تھیں۔ جس دوست یا شاگرد کو لائق اور شائق دیکھتے اسے عنایت فرماتے تھے۔

انھوں نے اور ان کے ہمعصر خواجہ حیدر علی آتشؔ نے خوبی اقبال سے ایسا زمانہ پایا جس نے ان کے نقش و نگار کو تصاویر مانی و بہزاد کا جلوہ دیا، ہزاروں صاحبِ فہم دونوں کے طرفدار ہو گئے، اور طرفین کو چمکا چمکا کر تماشے دیکھنے لگے، لیکن حق پوچھو تو ان فتنہ انگیزوں کا احسان مند ہونا چاہیے۔ کیوں کہ روشنی طبع کو اشتعالک دیتے تھے۔

ان دونوں صاحبوں کے طریقوں میں بالکل اختلاف ہے۔ شیخ صاحب کے پیر و مضمون دقیق ڈھونڈھتے ہیں، خواجہ صاحب کے معتقد محاورہ کی صفائی کلام کی سادگی کے بندے ہیں اور شعر کی تڑپ اور کلام کی تاثیر پر جان قربان کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو شیخ صاحب کے کلام پر چند قسم کے اعتراض ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بعض باتوں میں سینہ زوری اور شدت ہے، لیکن مورخ کو ہر امر کا اظہار واجب ہے۔ اس لیے قلم انداز بھی نہیں ہو سکتا۔

اوّل کہتے ہیں کہ شیخ صاحب کی اکثر نازک خیالیاں ایسی ہیں کہ کوہ کندن و کاہ برآوردن، چنانچہ اشعار مفصلہ ذیل نمونہ نازک خیالی ہیں۔

میری انکھوں نے تجھے دیکھ کے وہ کچھ دیکھا
کہ زبانِ مژہ پر شکوہ ہے بینائی کا

کھل گیا ہمپر عناصر جب ہوئے بے اعتدال
رابطہ واجب سے ممکن دوست دشمن میں نہیں

کی خدا نے کافروں پر اے صنم جنت حرام
درد کس کی آنکھ پڑتی تیرے ہوتے حُور پر

کوئے جاناں میں ہوں پر محروم ہوں دیدار سے
پائے خفتہ کندہ زن ہیں دیدہ بیدار پر

وہ آفتاب نہ ہو کس طرح سے لیے سایہ
ہوا نہ سر سے کبھی سایہ سحاب جُدا​

خواجہ صاحب کے معتقد کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے غزل کے اصول کو سمجھا ہے یعنی فارسی میں خواجہ حافظؔ اور شیخ سعدیؔ اور اُردو میں سوزؔ، میرؔ اور جراءتؔ سے سند پائی وہ اسے غزل نہ کہیں گے، مگر یہ بات ایسی گرفت کے قابل نہیں، کیوں کہ فارسی میں بھی جلاؔ، اسیر، قاسمؔ مشہدی، بیدلؔ اور ناصر علی وغیرہ استاد ہو گزرے ہیں، جنھوں نے اپنے نازک خیالوں کی بدولت خیال بند اور معنی یاب لقب حاصل کیا ہے۔ شیخ صاحب نے ان کی طرز اختیار کی تو کیا بُرا ہے۔ یہ بھی واضح ہو کہ جن لوگوں کی طبیعت میں ایسی خیال بندیوں کا انداز پیدا ہوا ہے، اس کے کئی سبب ہوئے ہیں، اول یہ کہ بعض طبیعتیں ابتدا ہی سے پُرزور ہوتی ہیں۔ فکر ان کے تیز اور خیالات بلند ہوتے ہیں۔ مگر اُستاد نہیں ہوتا جو اس ہونہار بچھڑے کو روک کر نکالے اور اُصول کی باگوں پر لگائے، پھر اس خودشری کو ان کی آسودہ حالی اور بے احتیاطی زیادہ قوت دیتی ہے، جو کسی جوہر شناس یا سخن فہم کی پرواہ نہیں رکھتی وہ اپنی تصویریں آپ کھینچتے ہیں اور آپ ان پر قربان ہوتے ہیں بلکہ شوقین داد دینے والے جو کھوٹے کھرے کے پرکھنے والے یں۔ اور حقیقت میں پسند عام کے وکیل بھی وہی ہیں، ان نازک خیالوں کو ان کی بھی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کی دولت مندی اپنے گھر پر اپنا دربار الگ لگاتی ہے۔ جس میں بعض اشخاص وقت پسندی اور باریک بینی میں ان کے ہم مزاج ہوتے ہیں۔ بعض فقط باتوں ہی باتوں میں خوش کر دینے کا شوق رکھتے ہیں۔ بعض کو اپنی گرہ کی عقل نہیں ہوتی۔ جس طرف لوگوں کو دوڑتے دیکھا آپ بھی دوڑنے لگتے ہیں، غرض ایسے ایسے سبب ہوتے ہیں جو بھلے چنگے آدمی کی آنکھوں پر پتی باندھ کر خود پسندی کے ناہموار میدانوں میں ڈہکیل دیتے ہیں۔

دوسرا اعتراض اِن کے حریفوں کا اُن سخت اور سنگین الفاظ پر ہے جن کے بھاری وزن کا بوجھ غزل کی نزاکت و لطافت ہرگز برداشت نہیں کر سکتی اور کام بھّدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ کچھ اشعار اِس قبیل کے بھی لکھے جاتے ہیں۔

بے خطر یوں ہاتھ دوڑاتا ہوں زلفِ یار پر
دوڑتا تھا جسطرح ثعبان موسٰے مار پر

تو وہ خورشید ہے اُلٹے جو گلستاں میں نقاب
چہرہ گل میں تلّون ہووہیں حِربا کا

برنگِ گل جگر ہوتا ہے ٹکڑے سیر گلشن میں
ہوا ہے تیغ غم بے یار نظارہ سپر غم کا

آگے مجھ کامل کے ناقص ہے کمالِ مدّعی
درمیاں ہے فرق اسّد راج اور اعجاز کا

مِل گیا ہے عشق کا آزار قسمت سے مجھے
ہوں جو عیسٰی بھی ارادہ ہو نہ استعلاج کا

انڈا کھٹک کے نکلی ہے باہر تو کیا ہوا
بلبل کو جسم بیضئہ فولاد ہو گیا

ناسخؔ تمام رجس تناسخ سے پاک ہے
وہ شمع ہو گیا تو وہ پروانہ ہو گیا

قمر ہی کیا ترے آگے محاق میں آیا
کہ آفتاب ھی تو احتراق میں آیا

سوئے کعبہ تیرے عاشق سجدہ کرتے ہیں کوئی
تیرے ابرو کی طرف قبلہ محّول ہو گیا

باعثِ کریہ ہوئی فرقت میں مجھ کو مے کشی
ساقیا اشکوں سے مے کا استحالہ ہو گیا

بڑا اکال ہے ناسخؔ غمِ عالم فراہم کر
ارادہ ہے اگر اے چرخ اس کی مہمانی کا

نہ باطل خشک زاہد ہے نہ عاطل رند تر دامن
خدا نے اپنی حکمت سے کیا ہے خشک و تر پیدا

کسی حالت میں مجھے ہوش سے کچھ کام نہیں
چڑھ گئے انجرے نشہ کے جو سودا ترا

آغازِ خط میں اژدر فرعون ہے جو زلف
افسونِ خطِ مار ہی افسانہ ہو گیا

غیر کوثر کسی دریا کا میں سیّاح نہیں
بیشئہ شیر خدا بن کہیں سیّاح نہیں

ہے ہوس ہم سے ملے یار کرے غیر کو ترک
مطلب اپنا وہ ہے جو قابل انجاح نہیں​

ظلم طولِ شب فرقت کے تطاول نے کہا
دادرس کوئی بجز خالق الاصباح نہیں

روشنائی سے ہوئی روشنیِ خلوتِ فکر
جزم قلم اور مری بزم میں مصباح نہیں

بال توڑے تری زلفوں کے نہ بیدردی سے
حس مرے ہاتھ کی مانند ہوگر شانہ میں​

خیال بند طبائع اور مشکل پسند لوگ اگرچہ اپنے خیالوں میں مست رہتے ہیں مگر چونکہ فیض سخن کالی نہیں جاتا اور مشق کو بڑی تاثیر ہے، اس لیے مشکل کلام میں بھی ایک لطف پیدا ہو جاتا ہے، جس سے ان کے اوران کے طرفداروں کے دعووں کی بنیاد قائم ہو جاتی ہے۔

ان کے حریف کہتے ہیں کہ شیخ صاحب بھی خیال بندی اور دشوار پسندی کی قباحت کو سمجھ گئے تھے۔ اور اخیر کو اس کوچہ میں آنے کا ارادہ کرتے تھے۔ انہی دنوں کا ایک مطلع شیخ صاحب کا ہے، خواجہ صاحب کے سامنے کسی نے پڑھا اور انھوں نے لطف زبان کی تعریف کی۔

جنوں پسند ہے مجھ کو ہوا ببولوں کی

عجب بہار ہے ان زرد زرد پُھولوں کی​

مگر اول تو طبیعت کی مناسبت دوسرے عمر بھر کی وہی مشق تھی، اسلئے جب محاورہ کے کوچہ میں آ کر صاف صاف کہنا چاہتے تھے تو پُھس پُھس بندش اور پھسنڈے الفاظ بولنے لگتے تھے، چنانچہ اس کی سند میں اکثر اشعار پیش کرتے ہیں، جن میں سے چند شعر یہ ہیں۔

ناک رگڑے ہر گھڑی کیونکر نہ اسکے سامنے
بدلے نتھنی کے سلیماں کی ہے خاتم ناک میں

رنگ لالہ میں اگر ہے تو نہیں نام کو بُو
یاسمن میں ترے پنڈے سی ہے بو رنگ نہیں

ساقی بغیر مے یہ لہو تھوکتا نہیں
منھ سے شراب وصل نکلتی ہے ہجر میں

کیا ہی حسد ہے فلک جس نے کہ نوبت پائی
دم میں مانندِ ھباب اس نے نقارہ توڑا​

اِن کے حریفوں کو اس لفظ پر بھی اعتراض ہے کیونکہ نقّارہ مشدّد ہے تخفیف کے ساتھ نہیں آیا، اور جب ان سے کہا گیا کہ نظّارہ بھی بہ تشدید ہے مگر تخفیف کے ساتھ فارسی اور ریختہ میں آیا ہے تو انھوں نے کہا کہ غیر زبان کے لفظ میں قیاس نہیں چل سکتا۔ اہل زبان کی سند دینی چاہیے۔ مُنصفوں کے نزدیک یہ بھی ان کی سینہ زوری ہے۔ نظامیؔ ۔

بذوقِ جشنِ نوروزی نقارہ

گلوئے خویش کردو پارہ پارہ


مجھ سے رہتا ہے رسیدہ وہ غزالِ شہری

صاف سیکھا ہے چلن آہوئے صحرائی کا​

غزال شہری کے لیے فارسی کی سند چاہیے۔ کیونکہ وحشی کے مقابل میں اہلی بولتے ہیں شہری نہیں بولتے۔ مگر اسے فارسی کے کوچہ میں نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ اردو کے قادر الکلام کا تصرف سمجھنا چاہیے۔

ذبح وہ کرتا تو ہے پر چاہیے اے مرغِ دل

دم پھڑک جائے تڑپنا دیکھ کر صیّاد کا​

یہ تعقید نہایت بے طور واقع ہوئی ہے۔ ان کے حریف اس قسم کے اشعار اور بھی بہت پڑھتے ہیں۔ مگر اِن جزوی باتوں پر توجہ بے حاصل ہے۔ اسلئے اشعار مذکور قلم انداز کئے گئے۔

اِن کے کلام میں تصوف بھی ہے۔ مگر اس کا رستہ کچھ اور ہے۔ جس سے وہ واقف نہیں۔

تو بھی اغوشِ تصّور سے جدا ہوتا نہیں
اے صنم جس طرح دُور اک دم خدا ہوتا نہیں

بحر وحدت میں ہوں میں، گو سر گیا مثلِ حباب
چوب کیا تلوار سے پانی جدا ہوتا نہیں​

نشہ عرفاں نہیں جبتک دلاہے قیل و قال
تا نہ ہو لبریز ساغر بے صدا ہوتا نہیں

اسرار نہاں آتے ہیں سینہ سے زباں پر
اب سدِّ سکندر کروں تعمیر گلے میں

ہے یہ وہ راہ کہ تا عرش پہنچتا ہے بشر
دل میں دروازہ ہے اس گنبدِ مینائی کا

عارفوں کو ہر در و دیوار ادب آموز ہے
مانع گردن کشی ہے انحنا محراب کا

مظہر وہ بُت ہے نور خدا کے ظہور کا
نقشِ قدم سے سنگ کو رُتبہ ہے در کا

حریف یہ بھی حرف رکھتے ہیں کہ شیخ ناسخؔ مخلوق فارسی کو تناسخ دے کر اُردو کی زندگی دیتے تھے۔

مسی آلودہ لب پر رنگِ پاں ہے
تماشا ہے تہِ آتش دھواں ہے

مسی آلودہ برلب رنگ پان است
تماشا کن تہِ آتش دخاں است
(بیدلؔ)

ناتوانی سے گراں سُرمہ ہے چشم یار کو
جسطرح ہو رات بھاری مردمِ بیمار کو
(شیخ صاحب)

گویند کہ شب بر سر بیمار گراں است
گر سرمہ بچشم تو گراں است ازاں است
(ناصر علی)

سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا ہوتا ہے انساں سے

کسی اُستاد کا شعر فارسی میں ہے۔

بروز بیکسی کس نیست غیر از سایہ یار من
مگر آنہم ندارد طاقتِ شبہائے تارِ من

فرق ہے شاہ و گدا میں قول شاعر سے یہی
شیرِ قالیں اور ہے شیر نیستاں اور ہے
(ناسخؔ)

بوریا جائے من دجائے تونگر قالیں
شیر قالیں دگر و شیر نیستاں دگر است
(حزیں)​

میر تقی مرحوم اور بقاؔ میں دوآبے کے مضمون پر جو دو دو لطیفے ہوئے، میر صاحب کے حال میں لکھے گئے۔ میں سمجھتا تھا کہ شیخ ناسخؔ نے الہ آباد میں بیٹھ کر اس میں سے یہ مضمون تراشا ہو گا۔

ایک تربینی ہے دو آنکھیں مری

اب الہ آباد بھی پنجاب ہے​

لیکن غیاث الدین بلبن بادشاہ دہلی کا بیٹا یعنی محمد سلطان جب لاہور کے باہر راوی کے کنارے پر ترکان تاتاری کی لڑائی میں مارا گیا تو امیر خسروؔ نے اِس کا مرثیہ ترکیب بند میں لکھا ہے۔ اس میں کہتے ہیں۔

بسکہ آب چشم حلقے شد رواں در چار سو

پنچ آبے دیگر اندر مولتاں آمد پدید​

کہتے ہیں کہ خواجہ صاحب نے انہیں باتوں پر چوٹ کر کے کہا ہے :

مضمون کا چور ہوتا ہے رسوا جہان میں

چکھی خراب کرتی ہے مالِ حرام کی​

اگرچہ اس طرح کے چند اشعار اور بھی سُنے جاتے ہیں۔ مگر ایسا صاحب کمال جس کی تصنیفات کمال نازک خیالی اور مضامین حالی کے ساتھ ایک مجلّد ضخیم موجود ہے۔ اس پر سرقہ کا الزام لگانا انصاف کی آنکھوں میں خاک ڈالنی ہے۔ سوداؔ اور میرؔ کے اشعار جن استادوں کے اشعار سے لڑ گئے ہیں وہ لکھے گئے ہیں، جو اُن کی طرف سے جواب ہے۔ وہی ان کی طرف سے سمجھیں۔ میری رائے میں یہ دونوں حریف اور اُن کے طرف دار کوئی ملزم نہیں۔ کیونکہ دونوں طرفوں میں کوئی کمال سے خالی نہیں تھا، البتہ طبیعتیں مکتلف ہوتی ہیں۔ اس لئے پسند میں اختلاف ہے، کہنے والے جو چاہیں سو کہے جائیں۔

انہی نازک خیالیوں میں جو صاف شعر بھی زبان سے نکل گیا ہے ایک تیر ہے کہ نشانہ کے پار جا کر اڑا ہے، اٹک کر ترازو بھی نہیں ہوا۔

سیکڑوں آہیں کروں پر دخل کیا آواز کا

تیر جو دیوے صدا ہے نقص تیر انداز کا


ترچھی نظروں سے نہ دیکھو عاشقِ دلگیر کو

کیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کر لو تیر کو​

اس انداز کے شعر بھی ان کے دیوانوں میں ڈھونڈو تو بہت ہوں گے۔

شیخ صاحب کے کلام میں نمک ظرافت کا چٹخارا کم ہے، چنانچہ زاہد اور ناصح جو شعرائے اردو فارسی کیلئے ہر جگہ رونق محفل ہیں، یہ اُن سے بھی ہنس کر دل نہیں بہلاتے اور اگر اتفاقاً ہے تو ایسا ہے کہ وہ ہنسنا زہرخند معلوم ہوتا ہے۔

حرص سے زاہد یہ کہتا ہے جو گر جائیں گے دانت
کیا کشادہ بہر رزق اپنا وہاں ہو جائے گا

دیکھیو ناسخؔ سر شیخ معمر کی طرف
کیا کلس مسواک کا ہے گنبدِ دستار کا​

سوداؔ کی غزل ہے، جرس ہوسے اگر ہوسے – قفس ہووے اگر ہووے

اُس کا شعر دیکھو کہ وہ اسی بات کو کس چوچلے سے کہتا ہے۔

نہیں شایان زیب گنبدِ دستار کچھ زاہد
مگر مسواک ہی اسپر کلس ہوسے اگر ہووے
(سوداؔ)

زاہد ابکی رمضان میں میں پڑھوں خاک نماز
سوئے قبلہ توخنا زیر کھڑے رہتے ہیں
(ناسخؔ)

واہ کیا پیر مغاں کا ہے تصرف مے کشو
محتسب کا اب سخن تکیہ ہے مُل مل ہو گیا

عابد و زاہد چلے جاتے ہیں پیتا ہے شراب
اب تو ناسخؔ زور رندلا اُبالی ہو گیا

اہل تزوید سے اس درجہ ہے نفرت مجھ کو
کہ مجھے قافیہ زور ہے کچھ کام نہیں​

شیخ صاحب کا مذہب پہلے سنت جماعت تھا، پھر مذہب شیعہ اختیار کیا۔ وہ اکثر غزلوں میں مذہبی تعریفیں کرتے تھے اور یہ شاعر یا عام مصنف کے لئے نازیبا ہیں۔ ہاں کوئی اپنے تائید مذہب میں کتاب لکھے تو اس میں دلائل و براہین کے قبیل سے جو چاہے کہے مضائقہ نہیں۔

وہ بہت خوش اخلاق تھے، مگر اپنے خیالات میں ایسے محو رہتے تھے کہ ناواقف شخص خشک مزاج یا بد دماغ سمجھتا تھا، سید مہدی حسن فراغؔ مرحوم (دیکھو صفحہ ۲۲۳) میاں بے تاب کے شاگرد تھے، اور زبان ریختہ کے کہن سال مشاق تھے، نقل فرماتے تھے کہ ایک دن میں شیخ صاحب کی خدمت میں گیا، دیکھا کہ چوکی پر بیٹھے نہا رہے ہیں، آس پاس چند احباب موڈھوں پر بیٹھے ہیں۔ میں سامنے جا کر کھڑا ہوا، اور سلام کیا، انھوں نے ایک آواز سے کہ جو ان کے بدن سے بھی فربہ تھی۔ فرمایا کہ کیوں صاحب کس طرح تشریف لانا ہوا۔ میں نے کہا کہ ایک فارسی کا شعر کسی استاد کا ہے۔ اس کے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔ فرمایا میں فارسی کا شاعر نہیں۔ اتنا کہہ کر اور شخص سے باتیں کرنے لگے۔ میں اپنے جانے پر بہت پچھتایا اور اپنے تئیں ملامت کرتا چلا آیا۔

ایک دن کوئی شخص ملاقات کو آئے، یہ اس وقت چند دوستوں کو لیے انگنائی میں کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ شیخ مذکور کے ہاتھ میں چھڑی تھی اور اتفاقاً پاؤں کے آگے مٹی کا ایک ڈھیلا پڑا تھا۔ وہ شغل بے کاری کے طور پر جیسے کہ اکثر اشخاص کو عادت ہوتی ہے، آہستہ آہستہ لکڑی کی نوک سے ڈھیلے کو توڑنے لگے، شیخ صاحب نے نوکر کو آواز دی، سامنے حاضر ہوا، فرمایا کہ میاں ایک ٹوکری مٹی کے ڈھیلوں کی بھر کر ان کے سامنے رکھ دو، دل لگا کر شوق پورا کریں۔

لطیفہ : شاہ غلام اعظم افصل (شاہ محمد اجمل کے پوتے شاہ ابو العالی تھے، انکے بیٹے شاہ غلام اعظم افضل تخلص ہوئے۔) ان کے شاگرد اکثر حاضر خدمت ہوتے تھے۔

ایک دن آپ تخت پر بیٹھے تھے اس پر سیتل پاٹی کا بوریا بچھا تھا۔ افضل آئے، وہ بھی اسی پر بیٹھ گئے۔ اس پر سیتل پاٹی کا ایک تنکا توڑ کر چٹکی سے توڑنے اور مڑوڑنے لگے۔ شیخ صاحب نے آدمی کو بلا کر کہا کہ بھائی وہ جو آج نئی جھاڑو تم بازار سے لائے ہو ذرا لے آؤ۔ اس نے حاضر کی، خود لیکر شاہ صاحب کے سامنے رکھ دی اور کہا، صاحبزادے! اس سے شغل فرمائیے، فقیر کا بوریا آپ کے تھوڑے سے التفات میں برباد ہو جائے گا، پھر اور سیتل پاٹی اس شہر میں کہاں ڈھونڈتا پھرے گا۔ وہ بیچارے شرمندہ ہو کر رہ گئے۔

لطیفہ : آغا کلب عابد خاں صاحب فرماتے ہیں، کہ ایک دفعہ شیخ صاحب کے واسطے کسی شخص نے دو تین چمچے بطریق تحفہ بھیجے جو شیشے کے تھے۔اِن دنوں میں نیا ایجاد سمجھے جاتے تھے، ایک امیر صاحبزادے آئے، اس طرف دیکھا، پوچھا کہ حضرت یہ چمچے کہاں سے خریدے اور کس قیمت کو خریدے۔ شیخ صاحب نے حال بیان کیا، انھوں نے ہاتھ بڑھا کر ایک چمچہ اٹھا لیا۔ دیکھ کر تعریف کی، پھر باتیں چیتیں کرتے رہے اور چمچہ سے زمین پر کھٹکا دے کر شغلِ بے شغلی فرماتے رہے۔ شیشہ کی بساط کیا تھی، ٹھیس زیادہ لگی جھٹ سے دو ٹکڑے۔ شیخ صاحب نے دوسرا چمچہ اتھا کر سامنے رکھ دیا اور کہا اب اس سے شغل فرمائیے۔

لطیفہ : ایک دن اپنے خانہ باغ کے بنگلہ میں بیٹھے تھے اور فکرِ مضمون میں غرق تھے، ایک شخص آ کر بیٹھے، ان کی طبیعت پریشان ہوئی، اٹھ کر ٹہلنے لگے کہ یہ اٹھ جائیں، ناچار پھر آ بیٹھے، مگر وہ نہ اُٹھے، کسی ضرورت کے بہانے سے پھر گئے کہ یہ سمجھ جائیں گے، وہ پھر بھی نہ سمجھے، انھوں نے چلم میں سے چنگاری اُٹھا کر بنگلہ کی ٹٹی میں رکھ دی اور آپ لکھنے لگے۔ ٹٹی جلنی شروع ہوئی، وہ شخص گھبرا کر اُٹھے اور کہا کہ شیخ صاحب آپ دیکھتے ہیں؟ یہ کیا ہو رہا ہے، انھوں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا کہ جاتے کہاں ہو، اب تو مجھے اور تمہیں مل کر راکھ کا ڈھیر ہونا ہے۔ تم نے میرے مضامین کو خاک میں ملایا ہے، میرے دل کو جلا کر خاک کیا ہے، اب کیا تمھیں جانے دوں گا۔

لطیفہ : اسی طرح ایک شخص نے بیٹھ کر انھیں تنگ کیا۔ نوکر کو بلا کر صندوقچہ منگایا، اس میں سے مکان کے قبالے نکال کر ان کے سامنے دھر دیئے اور نوکر سے کہا کہ بھائی مزدوروں کو بلاؤ اور اسباب اٹھا کر لے چلو، ادھر وہ شخص حیران ان کا منھ دیکھے، اُدھر نوکر حیران، آپ نے کہا دیکھتے کیا ہو، مکان پر تو یہ قبضہ کر چکے، ایسا نہ ہو کہ اسباب بھی ہاتھ سے جاتا رہے۔

شیخ صاحب کے مزاج میں یہ صفتیں تھیں مگر بنیاد ان کی فقط نازک مزاجی پر تھی۔ نہ غرور یا بدنیتی پر جس کا انجام بدی تک پہونچے۔ نازک مقام آ پڑتا تو اس طرح تحمل کر کے ٹال جاتے تھے کہ اوروں سے ہونا مشکل ہے۔

نقل : ایک نواب صاحب کے ہاں مشاعرہ تھا وہ ان کے معتقد تھے، انھوں نے ارادہ کیا کہ شیخ صاحب جب غزل پڑھ چکیں تو انھیں سرِ مشاعرہ خلعت دین، یار لوگوں نے خواجہ صاحب کے پاس مصرعہ طرح نہ بھیجا۔ انھیں اس وقت مصرع پہنچا جب ایک دن مشاعرہ میں باقی تھا۔ خواجہ صاحب بہت خفا ہوئے اور کہا کہ اب لکھنؤ رہنے کا مقام نہیں، ہم نہ رہیں گے۔ شاگرد جمع ہوئے اور کہا کہ آپ کچھ خیال نہ فرمائیں۔ نیاز مند حاضر ہیں، دو (۲) دو (۲) شعر کہیں گے تو صدہا شعر ہو جائیں گے، وہ بہت تند مزاج تھے۔ اُن سے بھی ویسے ہی تقرس کرتے رہے۔ شہر کے باہر چلے گئے۔ پھرتے پھرتے ایک مسجد میں جا بیٹھے، وہاں سے غزل کہہ کر لائے اور مشاعرے میں گئے تو ایک قرابین بھی بھر کر لیتے گئے۔ بیٹھے ایسے موقع پر تھے کہ عین مقابل شیخ صاحب کے تھے۔ اوّل تو آپ کا انداز ہی بانکے سپاہیوں کا تھا، اس پر قرابین بھری سامنے رکھی تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ خود بھی بھرے بیٹھے ہیں۔ بار بار قرابین اٹھاتے تھے اور رکھ دیتے تھے، جب سامنے شمع آئی تو سنبھل کر ہو بیٹھے اور شیخ صاحب کی طرف اشارہ کر کے پڑھا۔

سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا​

اس ساری غزل میں کہیں ان کے لے پالک ہونے پر، کہیں ذخیرہ دولت پر، کہیں ان کے سامان امارت پر، غرض کچھ نہ کچھ چوٹ ضرور ہے۔ شیخ صاحب بے چارے دم بخود بیٹھے رہے، نواب صاحب ڈرے کہ خدا جانے یہ ان پر قرابین خالی کریں یا میرے پیٹ میں آگ بھر دیں، اسی وقت دروغہ کو اشارہ کیا کہ دوسرا خلعت خواجہ صاحب کے لئے تیار کرو، غرض دونوں صاحبوں کو برابر خلعت دے کر رخصت کیا۔

رغمی سلمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدتوں لکھنؤ میں رہنا ہوا، میں نے کبھی چاند اور سورج کا طلوع ایک مطلع میں سے نہ دیکھا۔ ہمیشہ مشاعرہ میں پہلو بچاتے تھے۔ خواجہ صاحب نواب سید محمد خاں رندؔ اور صاحب مرزا شناورؔ کے مشاعرہ میں جایا کرتے تھے۔ ادھر مرزا محمد رضا برقؔ کے ہاں مشاعرہ ہوتا تھا۔ شیخ صاحب اپنی غزل بھیج دیتے تھے۔ جب جلسہ جمتا، برقؔ کے شاگرد میاں طورؔ سب سے پہلے غزل مذکور کو لے کر کہتے، صاحبو! ہمہ تن گوش باشید، یہ غزل استاد الاستاد شیخ ناسخؔ کی ہے۔ تمام اہل مشاعرہ چپ چاپ ہو کر متوجہ ہو جاتے۔ ان کی غزل کے بعد اور شعراء پڑھتے تھے۔

بر خلاف عادت شعراء کے ان کی طبیعت میں سلامت روی کا جوہر تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ سید محمد خاں رندؔ کی اپنے استاد خواجہ حیدر علی آتش سے شکر رنجی ہو گئی، چاہا کہ ناسخؔ کی شاگردی سے استاد سابق کے تعلق کو فسخ کریں۔ مرزا محمد رضا برقؔ کے ساتھ شیخ صاحب کے پاس آئے، مرزا صاحب نے اظہار مطلب کیا۔ شیخ صاحب نے تامل کے بعد کہا کہ نواب صاحب دس برس سے خواجہ صاحب سے اصلاح لیتے ہیں، آج اُن سے یہ حال ہے تو کل مجھے ان سے کیا اُمید ہے۔ علاوہ برآں آپ خواجہ صاحب سے کچھ سلوک بھی کرتے ہیں، وہ سلسلہ قطع ہو جائے گا، اس کا وبال کدھر پڑے گا اور مجھے اُن سے یہ تمنا نہیں، میری دانست میں بہتر ہے کہ آپ ہی دونوں صاحبوں میں صلح کروا دیں، اور اس امر میں اس قدر تاکید کی کہ پھر آپس میں صفائی ہو گئم

اگرچہ ان کے کلاموں اور حکایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت میں شوخی اور رنگینی نہ تھی، مگر شاعری کا وہ نشہ ہے کہ اپنے رنگ پر لے ہی آتا ہے، چنانچہ میر گھسیٹا ایک شخص مر گئے تو شیخ صاحب نے تاریخ فرمائی۔

جب مر گئے ہائے میر گھسیٹا

ہر ایک نے اپنے منھ کو پیٹا


ناسخ نے کہی یہ سن کے تاریخ

افسوس کہ موت نے گھسیٹا​

اِن کے مزاج میں منصفی اور حق شناسی کا اثر ضرور تھا، چنانچہ الہ آباد میں ایک دن مشاعرہ تھا، سب موزوں طبع طرحی غزلیں کہہ کر لائے۔ شیخ صاحب نے غزل پڑھی، مطلع تھا۔

دل اب محوِ ترسا ہوا چاہتا ہے

یہ کعبہ کلیسا ہوا چاہتا ہے​

ایک لڑکے نے صف کے پیچھے سے سر نکالا، بھولی بھالی صورت سے معلوم ہوتا تھا کہ معرکہ میں غزل پڑہتے ہوئے ڈرتا ہے۔ لوگوں کی دلدہی نے اس کی ہمت باندھی، پہلا ہی مطلع تھا۔

دل اس بُت پہ شیدا ہوا چاہتا ہے

خدا جانے اب کیا ہوا چاہتا ہے​

محفل میں دھوم مچ گئی، شیخ ناسخؔ نے بھی تعریف کر کے لڑکے کا دِل بڑھایا اور کہا بھائی یہ فیضانِ الہٰی ہے۔ اس میں استادی کا زور نہیں چلتا۔ تمہارا مطلع مطلع آفتاب ہے۔ میں اپنا پہلا مصرع غزل سے نکال ڈالوں گا۔

شاہ نصیر کا مطلع ہمیشہ پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے نصیرؔ تخلص نہ ہوتا تو یہ مطلع نصیب نہ ہوتا۔

خیال زلفِ دوتا میں نصیر پیٹا کر

گیا ہے سانپ نِکل اب لکیر پیٹا کر​

ایک دن کسی سوداگر کی کوٹھی میں گئے۔ سوداگر بچّہ کہ دولتِ حسن کا بھی سرمایہ دار تھا، سامنے لیٹا تھا مگر کچھ سوتا کچھ جاگتا تھا، آپ نے دیکھ کر فرمایا۔

مصرعہ : ہے چشم نیم باز عجب خواب ناز ہے​

یہ مصرع تو ہو گیا مگر دوسرا مصرع جیسا جی چاہتا تھا ویسا نہ ہوتا تھا۔ گھر آئے اسی فکر میں غرق تھے کہ خواجہ وزیر آ گئے، انھوں نے خاموشی کا سبب پوچھا، شیخ صاحب نے بیان فرمایا، اتفاق ہے کہ اُن کی طبیعت لڑ گئی۔

ہے چشم نیم باز عجب خواب ناز ہے

فتنہ تو سو رہا ہے در فتنہ باز ہے​

شیخ صاحب بہت خوش ہوئے۔

ایک دن وزیر اپنے شاہِ سخن کی خدمت میں حاضر ہوئے، مزاج پُرسی فرما کر عنایت و محبّت کی باتیں کرنےلگے اور کہا کہ آج کل کچھ فکر کیا؟ عرض کی کہ درود وظیفہ سے فرصت نہیں ہوئی، آپ نے پھر ارشاد فرمایا، انھوں نے یہ مطلع پڑھا۔

وہ زلف لیتی ہے تاب دل و تواں اپنا

اندھیری رات میں لٹتا ہے کارواں اپنا​

بہت خوش ہوئے، اس وقت ایک عمدہ تسبیح عقیق البحر کی ہاتھ میں تھی وہ عنایت فرمائی، خواجہ وزیر پر بری عنایت تھی اور قدر و منزلت فرماتے تھے۔ سب شاگردوں میں ان کا نمبر اول تھا، پھر برقؔ، رشک وغیرہ وغیرہ۔ تاریخ کلیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ پہر اسی فکر میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے، چنانچہ جن دنوں شاہ اجمل کے دائرہ میں تشریف رکھتے تھے تو وہاں تین گھرانے بابرکت اور صاحب دستگاہ تھے۔ تینوں جگہ سے وقت معمول پر کھانا آتا تھا، ایک کوان بلکہ دسترخوان شاہ ابو المعالی کی سرکار سے آتا تھا۔ اس میں ہر قسم کے امیرانہ اور عمدہ کھانے موجود ہوتے تھے، ایک خوان سید علی جعفر کے ہاں سے آتا تھا کہ شاہ ابو المعالی کی بہن اِن سے منسوب تھیں، ایک خوان شاہ غلام حیدر صاحب کے ہاں سے آتا تھا، اس پر بھی اپنا باورچی خانہ الگ گرم ہوتا تھا، جس چیز کو جی چاہتا تھا پکواتے تھے، دسترخوان پر وہ بھی شامل ہو جاتا تھا، ایک دن باورچی سے خاگینہ کی فرمائش فرمائی تھی، اس میں کوئی سنپولیا گرا ہو گا۔ چونکہ دوبارہ یہ حرکت کی تھی۔ آپ نے تاریخ کہہ دی۔

جاں بلب آمد مرا از غفلتِ طباخ آہ

مے پزد خاگینہ با مار کریہہ از ہرمن


چوں دگر بارہ خطا بنمو و سال عیسوی

گفت دل مارِ سیہ پخت ایں سفینہ از بہر من​

۱۸۳۱؁ء میں معتمد الدولہ آغا میر نے جو سوا لاکھ روپیہ قصیدہ کا صلہ دیا تھا انھوں نے مرزائی صاحب کے حوالہ کر دیا تھا۔ لوگوں نے جانا کہ ان کے گھر ہی میں ہے، چور نے یہ جان کر رات میں نقب لگائی اور ناکام رہ گیا۔ آپ نے فرمایا۔

دزد درخانہ راسخ چو زدہ نقب امشب

نہ زر و سیم نہ بُد مس، خجل آمد بیرون


بہر تاریخ مسیحی چو بریدم سر دزد

ذر دا زخانہ مفلس، خجل امد بیرون​

بات بات پر تاریخ کہتے تھے۔ بخار سے صحت پائی تاریخ کہی، رفت تپ توبہ مَن (۱۲۳۵ھ) غسل صحت کیا تو کہا۔ مصرعہ "شود صحت ہمایوں و مبارک" (۱۲۳۵ھ)، ایک موقع پر قتل ہوتے ہوتے بچ گئے۔ کہا۔ "کنم شکرِ خدا" (۱۲۳۵ھ، الہ آباد میں دائرہ کے پھاٹک میں بیٹھے تھے، چھت میں سے سانپ گرا، اس کی تاریخ کہی، مصرعہ "سیہ مار از فلک برمن نفیتاد")، حریفوں نے نظر بند کروا دیا تو کہا۔ مصرعہ "ہے ہے افسوس خانہ زنداں گردید"۔ جس بزرگ کی سفارش سے چھوٹے، اس کا تاریخی شکریہ کہا۔ مصرعہ " رہانیدی مراز دستِ گرگے"۔ کسی نے خطوط چُرا لئے تو کہا، مصرعہ "سیاہ ہمچو قلم باد روئے حاسد من۔" پھر چار خط جاتے رہے تاریخ کہی۔ ع "صد حیف تلف چہار نامہ" پیارے شاگرد خواجہ وزیرؔ کا بیا ہوا تو فرمایا۔ ع "شدہ نوشہ وزیر من امروز"، پھر ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو صبح کا وقت تھا، فرمایا۔ ع "صبح طالع شد بر آمد آفتاب"۔

لطیفہ : ایک مشاعرہ میں خواجہ صاحب نے مطلع پڑھا۔

سُرمہ منظورِ نظر ٹھہرا ہے چشم یار میں

نیل کا گنڈا پنہا یا مردمِ بیمار میں​

شیخ صاھب نے کہا، سبحان اللہ، خواجہ صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے۔

یوں نزاکت سے گراں ہے سرمہ چشم یار میں

جس طرح ہو رات بھاری مردم بیمار میں​

خواجہ صاحب نے اُٹھ کر سلام کیا اور کہا "جائے استاد خالیست"۔ آزاد کی سمجھ میں نہیں آتا کہ مردم بیمار میں گنڈا کیونکر پہناتے ہیں، گنڈا بیمار کو پنہایا کرتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ تعجب شیخ صاحب کے مطلع کا ہے کہ فرماتے ہیں۔

یوں نزاکت سے گراں ہے سُرمہ چشم یار میں

جس طرح ہو رات بھاری مردم بیمار میں​

یہاں بھی مَیں بے معنی ہے، پر ہوؔ تو ٹھیک ہے۔

لطیفہ : ایک مشاعرہ میں ایسے وقت پہونچے کہ جلسہ ختم ہو چکا تھا مگر خواجہ حیدر علی آتشؔ وغیرہ چند شعراء ابھی موجود تھے، یہ جا کر بیٹھے، تعظیم رسمی اور مزاج پرسی کے بعد کہا کہ جناب خواجہ صاحب مشاعرہ ہو چکا، انھوں نے کہا کہ سب کو آپ کا اشتیاق رہا۔ شیخ صاحب نے یہ مطلع پڑھا :

جو خاص ہیں وہ شریک گروہِ عام نہیں

شمار دانہ تسبیح میں امام نہیں​

چونکہ نام بھی امام بخش تھا، اس لئے تمام اہل جلسہ نے نہایت تعریف کی۔ خواجہ صاحب نے یہ مطلع پڑھا۔

یہ بزم وہ ہے کہ لاخیر کا مقام نہیں

ہمارے گنجفہ میں بازئ غلام نہیں​

بعض اشخاص کی روایت ہے کہ یہ مطلع آتشؔ کے شاگرد کا ہے، ناسخؔ کے شاگردوں کی طرف سے اس کا جواب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لاجواب ہے۔

جو خاص بندہ ہیں وہ بندہ عوام نہیں

ہزار بار جو یوسف بِکے غلام نہیں​

عوام میں یہ روایت اس طرح مشہور ہے مگر دیرینہ سال لوگ جو اس زمانہ کی صحبتوں میں شریک تھے۔ اُن سے یہ تحقیق ہوا کہ پہلا مطلع آتشؔ نے حقیقت میں طالب علی خاں عیشیٰ (طالب علی خاں عیشیؔ ولد علی بخش خاں لکھنؤی ایک عالم فاضل شخص تھے اور کمالات علمی کیساتھ شعر بھی خوب کہا کرتے تھے مگر شاعری پیشہ نہ تھے۔ دیوان فارسی مع قصائد و دیوان ریختہ، مجموعہ نثر، مثنوی سرد چراغاں اور اکثر اقسام سخن ان کے یادگار ہیں۔ سعادت علیخاں جیسے نکتہ شناس کے سامنے بیٹھکر انھوں نے فرمائش ہائے شاعرانہ کا سر انجام کیا تھا اور مورد محسین و آفریں ہوئے تھے۔ خان موصوف خواجہ صاحب کی شاعری کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ اس پر انھوں نے بگڑ کر ان کا ذاتی دھبّہ دکھایا تھا اور مطلع مذکور کہا تھا۔) کے حق میں کہا تھا، یار لوگوں نے صفت مشترک پیدا کر کے شیخ صاحب کے ذمّہ لگا دیا۔

طبع اوّل کی ترویج میں اس کتاب کو دیکھ کر میرے شفیق ولی سید احمد صاحب ڈکشنیری نے کسی کی زبانی بیان کیا کہ شیخ ناسخؔ ایک دن نواب نصیر الدین حیدر کے حضور میں حاضر تھے، حقہ سامنے تھا، فرمایا کہ شیخ صاحب اس پر کچھ کہیے۔ انھوں نے اسی وقت کہا :-

حقّہ جو ہے حضور معلٰے کے ہاتھ میں

گویا کہ کہکشاں ہے ثریّا کے ہاتھ میں


ناسخؔ یہ سب بجا ہے ولیکن تو عرض کر

بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں​

بعض احباب کہتے ہیں کہ ظاہر الفاظ میں حقّہ کہکشاں ہے اور ممدوح ثریّا لیکن ایسے ممدوحوں کو چاند سورج بلکہ باعتبار قدر و منزلت کے فلک بھی کہہ دیا، ثریّا سے آج تک کسی نے تشبیہ نہیں دی، شیخ ناسخؔ کلام کی گرمی، شوخی، چُستی اور ترکیب سے دست بردار ہوئے، مگر اُصولِ فن کو نہیں جانے دیا، ان کی طرف یہ قطعہ منسوب کرنا چاند پر داغ لگانا ہے، لیکن چونکہ فی البدیہہ کہا ہے اس لئے اس قدر سخت گیری بھی جائز نہیں۔

ایک غزل شیخ صاحب کی ہے جس کا مطلع ہے :-

دل لیتی ہے وہ زلفِ سیاہ فام ہمارا

بُجھتا ہے چراغ آج سرِ شام ہمارا​

وہی مرزائی صاحب جن کے پاس شیخ صاحب کے روپے امانت رہے تھے، ایک امیر شرفائے لکھنؤ میں سے تھے اور شیخ صاحب کے بہت دوست تھے، انھوں نے ایک عمدہ فیروزہ پر آپ کا نام نامی کھدوا کر انگوٹھی بنوا کر دیا۔ اکثر پہنے رہتے تھے، کبھی اُتار کر رکھ بھی دیتے تھے۔ وہ کسی نے چُرا لی یا کھو گئی، اس پر فرمایا۔

ہم سا کوئی گم نام زمانہ میں نہ ہو گا

گم ہو وہ نگیں جس پہ کُھدے نام ہمارا​

اس عہد تک لکھنؤ بھی آج کا لکھنؤ نہ تھا، شیخ ابراہیم ذوقؔ کا یہ مطلع جب وہاں پڑھا گیا۔

خبر کر جنگ نوفل کی تو مجنوں اہل ہاموں کو

کبادہ تا صبا کھچوائے شاخ بید مجنوں کو​

سب نے اُسے بے معنی کہا۔ شیخ صاحب نے جنگ نوفل کا واقعہ اور کبادہ کھینچنے کی اصطلاح بتائی، پھر سب نے تسلیم کیا، لیکن یہ امر نہ کچھ دلّی والوں کے لیے موجبِ فخر ہے نہ لکھنؤ والوں کے لیے باعثِ رنجش، آخر دلی بھی ایک دن میں شاہجہاں آباد نہیں ہو گئی تھی۔ میر تقی اور مرزا رفیع پیدا ہوتے ہی میرؔ اور سوداؔ نہیں ہو گئے۔ جب کلام کا سِلسلہ یہاں تک پہنچا تو اس قدر کہنا واجب ہے کہ اس عہد تک شعرائے لکھنؤ ان استادوں کے شاگرد تھے۔ جن کا دریائے کمال دلّی کے سرچشمہ سے نکلا تھا۔ اور فصحائے لکھنؤ بھی ہر محاورہ کے لیے دلّی ہی کو فخر سمجھے تھے، کیوں کہ وہ اکثر انہی بزرگوں کے فرزند تھے جنھیں زمانہ کی گردش نے اُڑا کر وہاں پھینک دیا تھا پس شیخ صاحب اور خواجہ حیدر علی آتشؔ کےکمال نے لکھنؤ کو دلّأ کی قید و پابندی سے آزاد کر کے استقلال کی سند دی اور وہی مستند ہوئی، اب جو چاہیں سو کہیں ہم نہیں روک سکتے۔ چنانچہ شیخ صاحب فرماتے ہیں۔

شہسواری کا جو اس چاند کے ٹکڑے کو ہے شوق
چاندنی نام ہے شبدیز کی اندھیاری کا​

اےخط اس کےگورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیا
چاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاں ریاں

اللہ رے روشنی مرے سینہ کے داغ کی
اندھیاری رات میں نہیں حاجت چراغ کی

نام سنتا ہوں جو میں گور کی اندھیاری کا
دل دھڑکتا ہے جدائی کی شبِ تار نہ ہو

اگرچہ دلّی میں بچے سے بوڑھے تک اندھیری رات کہتے ہیں مگر لکھنؤ والوں کو ٹوکنے کا منھ نہیں، کیوں کہ جس خاک سے ایسے ایسے صاحب کمال اُتھیں، وہاں کی زبان کود سند ہے، بکاؤلی میں نسیم کہتے ہیں۔ مصرعہ "گھوما مانند نرد گھر گھر۔" دلّی والوں کی زبان سے گھومتا ممکن نہیں، اہل لکھنؤ ملائی کو بالائی کہتے ہیں۔ پینے کا ہو تو تمباکو، پان میں کھانے کا ہو تو تماکو کہتے ہیں، دلی والے پینے کا ہو تو تمباکو، کھانے کا ہو تو زردہ کہتے ہیں۔

یوں تو شیخ صاحب کا ایک زمانہ معتقد ہوا۔ اور سب نے ان کی شاگردی کو فخر سمجھا مگر چند شاگرد بڑے بڑے دیوانوں کے ایک ہوئے۔

(۱) خواجہ وزیر جو آتشؔ کے شاگرد تھے، پھر ناسخؔ کے شاگرد ہوئے اور اسی پر فخر کرتے کرتے مر گئے۔ جیسے نازک خیال تھے ویسی ہی زبان پر قدرت رکھتے تھے۔ شیخ صاحب بھی ان کی بڑی خاطر کرتے اور اوّل درجہ کی شفقت مبذول فرماتے تھے۔

(۲) مرزا محمد رضا خاں برقؔ بعض بعض غزلوں سے اور واجد علی شاہ بادشاہ کی مصاحبت سے مشہور عالم ہوئے ان کا دیوان چھپا ہوا بِکتا ہے۔

(۳) والا جاہ میر علی اوسط رشکؔ، جن کی طبیعت کی آمد ضحیم اور جسیم دیوانوں میں نہیں سماتی اور شاعری کی سرکار سے تاریخیں کہنے کا ٹھیکہ ملا۔

(4) شیخ امداد علی بحر ہر چند زمانہ نے غریبی کی خاک سے سر اُٹھانے نہیں دیا مگر طبیعت بڑھاپے میں جوانی کی اکڑ تکڑ دکھاتی رہی۔ آخر میں آ کر اقبال نے رفاقت کی، نواب صاحب رام پور کی سرکار میں آ کر چند سال آرام سے بسر ہوئے۔ حقیقت میں وہی ایک شاگرد تھے، جو اب اُستاد کے لیے باعثِ فخر تھے۔

(5) سیّد اسمٰعیل حسین منیرؔ شکوہ آبادی کہن سال مشاق تھے، پہلے نواب باندہ کی سرکار میں تھے۔ 1857ٰء کے مفسدہ کے بعد چند روز بہت تکلیف اٹھائی، پھر نواب صاحب رام پور نے قدردانی فرمائی، چند سال عمر کے باقی تھے۔ اچھی طرح بسر کئے اور عالم آخرت کا سفر کیا۔

(6) آغا کلب حسین خان نادرؔ سب سے آخیر میں ہیں۔ مگر افراط شوق اور آمد مضامین اور کثرتِ تصانیف اور پابندی اصول میں سب سے اوّل ہیں۔ تمام عمر انھوں نے ڈپٹی کلکڑی کی اور حکومت کے شغلوں میں گرفتار رہے۔ مگر فکر شعر سے کبھی غافل نہ ہوئے۔ جس ضلع میں گئے مشاعرہ کو اپنے ساتھ لیتے گئے۔ شعراء کے ساتھ خواہ سرکاری نوکریوں سے خواہ اپنے پاس سے ہمیشہ سلوک کرتے رہے اور اسی عالم میں یہ بھی کہا۔

لوگ کہتے ہیں کہ فنِ شاعری منحوس ہے

شعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیا​

ان کے کئی ضخیم دیوان غزلوں، قصیدوں، سلاموں اور مرثیوں کے ہیں۔ کئی کتابیں اور رسائل ہیں جن سے طالب زبان بہت کچھ فائدے حاصل کر سکتا ہے۔ ایک کتاب فن زراعت میں لکھی، اس میں ہندوستان کے میووں اور ترکاریوں کی مفصل تحقیقات ہے، بسبب دیرینہ سالی کے سرکار سے پنشن لے لی تھی، پھر بھی شاعری کا فرض اسی طرف ادا کئے جاتے تھے، خوش اعتقادی اُن کی قابل رشک تھی۔ یعنی وصیت کی تھی کہ بعد وفات میرے ایک ہاتھ میں سلاموں اور مرثیوں کا دیوان دینا اور دوسرے ہاتھ میں قصائد کا دیوان رکھ دینا جو بزرگان دین کی مدح میں کہے ہیں۔

ان لوگوں نے اور ان کے بعض ہمعصروں نے زبان کے باب میں اکثر قیدیں واجب سمجھیں کہ دلّی کے مستند لوگوں نے بھی ان میں سے بعض بعض باتوں کی رعایت اختیار کی اور بعض میں اختلاف کرتے تھے اور عام لوگ خیال بھی نہ کرتے تھے مگر اصل واضع ان قوانین کے میر علی اوسط رشک تھے۔ چنانچہ کچھ الفاظ نمونے کے طور پر لکھنے ہیں مثلاً فرماتے تھے۔

یہاں، وہاں، بروزن جاں نہ ہو، بروزن جہاں ہو، لیکن تعجب یہ ہے کہ شیخ صاحب اور خواجہ صاحب کوئی اس کے پابند نہ تھے۔

پہ|اور|پر||پر کو وجوباً اختیار کیا|
رکھا||رکھا|میں|رکھا|ایضاً
تلک|اور|تک|میں|تک|"
بٹھانا||پنھانا|میں|بیٹھانا - پہنانا|"
کبھو|اور|کبھی|میں|کبھی|"
ایجاد اور کلام||مذکّر||(بعض مؤنث کہتے ہیں) |"
طرز||مؤنث||مذکّر بولتے ہیں|
صُلح ہو گئی||||صلح ہو گئی|

اس باب میں، اس بارہ میں غدر سے پہلے دلّی میں نہ بولتے تھے۔ اب سب بولنے لگے، آئے ہے، جائے ہے کی جگہ آتا ہے، جاتا ہے، اب دلّی والے بھی یہی کہنے لگے۔ صورت سے جیسے چودھویں کا چاند، جانے چودھویں کا چاند ہے، فسانہ عجائب میں ہے شعلہ، وغیرہ کو دربا اور صحرا کا قافیہ نہیں باندھتے۔

غزلیات

پونچھتا اشک اگر گوشہ داماں ہوتا
چاک کرتا میں جنوں میں جو گریباں ہوتا

مال ملتا جو فلک سے ضرر جاں ہوتا
سر نہ ہوتا جو میسّر مجھے ساماں ہوتا

منھ کو دامن سے چھپا کر جو وہ رقصاں ہوتا
شعلہ حُسن چراغِ تہِ داماں ہوتا

اپنے ہونٹوں سے جو اک بار لگا لتا وہ
ہے یقیں ساغرِ مے چشمہ حیواں ہوتا

اُسترا منھ پہ جو پھرنے نہیں دیتا ہے بجا
محو دیں دار سے کیونکر خط قراں ہوتا

نازک ایسا ہے وہ کافر وہیں ہوتا بدمست
گذر اس کا جو کبھی زیر مغیلاں ہوتا

سنگِ چقماق بھی بنتا تو مرا ضبط یہ ہے
نہ مری قبر کا پتّھر شرر افشاں ہوتا

ہوں وہ وحشی کہ اگر دشت میں پھرتا شب کو
آگے مشعلچی وہی غول بیاباں ہوتا

نگہتِ کاکلِ پیچاں سے جو دیتے تشبیہ
عطر مجموعے کا ہر جزو پریشاں ہوتا

کی مکافاتِ شب وصل خدا نے ورنہ
کس لئے مجھ پر عذابِ شب ہجراں ہوتا

اپنی صورت کا وہ دیوانہ نہ ہوتا تو کیوں
پاؤں میں سلسلہ گیسوئے پیچاں ہوتا

ایک دم یار کو بوسوں سے نہ ملتی فرصت
گر دہن دیدہ عالم سے نہ پنہاں ہوتا

کیسی پریاں؟ شہِ جنات کو بھی آٹھ پہر
ہے یہ حسرت کہ سگِ کوچہ جاناں ہوتا

خوں رُلاتا وہیں ناسور بنا کر گردوں
زخم بھی گر مرے تن پر کبھی خنداں ہوتا

اب اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے ولے
آج آتی شب فرقت میں تو احساں ہوتا

کون ہے جو نہیں مرتا ہے تری قامت پر
کیوں نہ ہر سروِ چمن قالب بیجاں ہوتا

کیا قوی ہے یہ دلیل اس کی پریزادی کی
ربف انسان سے کرتا جو وہ انساں ہوتا

اے بتو! ہوتی اگر مہر و محبت تم میں
کوئی کافر بھی نہ واللہ مسلماں ہوتا

حسرتِ دل نہیں دیتا ہے نکلنے ناسخؔ
ہاتھ شل ہوتے میسّر جو گریباں ہوتا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

دم بلبل اسیر کا تن سے نکل گیا
جھونکا نسیم کا جو ہیں سَن سے نِکل گیا

لایا وہ ساتھ غیر کو میرے جنازہ پر
شعلہ سا ایک جیبِ کفن سے نکل گیا

ساقی بغیر شب جو پیا آب آتشیں
شعلہ وہ بن کے میرے دہن سے نکل گیا

اب کی بہار میں یہ ہوا جوش اے جنوں
سارا لہو ہمارے بدن سے نکل گیا

اس رشکِ گل کے جاتے ہی بس آ گئی خزاں
ہر گل بھی ساتھ بو کے چمن سے نکل گیا

اہلِ زمیں نے کیا سِتم نو کیا کوئ؟
نالہ جو آسمانِ کہن سے نکل گیا

سنسان مثل وادی غربت ہے لکھنؤ
شاید کہ ناسخؔ آج وطن سے نکل گیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

واعظا مسجد سے اب جاتے ہیں میخانے کو ہم
پھینک کر ظرفِ وضو لیتے ہیں پیمانے کو ہم​

کیا مگس بیٹھے بھلا اس شعلہ رُو کے جسم پر
اپنے داغوں سے جلا دیتے ہیں پروانے کو ہم

تیرے آگے کہتے ہیں گل کھولکر بازوئے برگ
گلشنِ عالم سے ہیں تیار اڑ جانے کو ہم

کون کرتا ہے بتوں کے آگے سجدہ زاہدا
سر کو دے دے مار کر توڑینگے بتخانے کو ہم

جب غزالوں کی نظر آ جاتی ہیں چشم سیاہ
دشت میں کرتے ہیں یاد اپنے سیہ خانے کو ہم

بوسہ خال زنخداں سے شفا ہو گی ہمیں
کیا کریں گے اے طبیب اس تیرے بہلانے کو ہم

باندھتے ہیں اپنے دلمیں زلفِ جاناں کا خیال
اس طرح زنجیر پہناتے ہیں دیوانے کو ہم

پنجہ وحشت سے ہوتا ہے گریباں تار تار
دیکھتے ہیں کاکلِ جاناں میں جب شانے کو ہم

عقل کھو دی تھی جو اے ناسخؔ جنونِ عشق نے
آشنا سمجھا کئے اک عمر بیگانے کو ہم
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

چوٹ دل کو جو لگے آہِ رسا پیدا ہو
صدمہ شیشہ کو جو پہونچے تو صدا پیدا ہو

کشتہ تیغ جدائی ہوں یقیں ہے مجھ کو
عضو سے عضو قیامت بھی جدا پیدا ہو

ہم ہیں بیمارِ محبت یہ دُعا مانگتے ہیں
مثل اکسیر نہ دُنیا میں دوا پیدا ہو

کہہ رہا ہے جرسِ قلب بآوازِ بلند
گم ہو رہبر تو ابھی راہِ خدا پیدا ہو

کس کو پہنچا نہیں اے جان ترا فیضِ قدم
سنگ پر کیوں نہ نشانِ کفِ پا پیدا ہو

مل گیا خاک میں پس پس کے حسینوں پر میں
قبر پر بوئیں کوئی چیز حنا پیدا ہو

اشک تھم جائیں جو فرقت میں تو آہیں نکلیں
خشک ہو جائے جو پانی تو ہوا پیدا ہو

یاں کچھ اسباب کے ہم بندے ہی محتاج نہیں
نہ زباں ہو تو کہاں نامِ خدا پیدا ہو

گل تجھے دیکھ کے گلشن میں کہیں عمر دراز
شاخ کے بدلے وہیں دست دعا پیدا ہو

بوسہ مانگا جو دہن کا تو وہ کیا کہنے لگے
تو بھی مانند دہن اب کہیں نا پیدا ہو

نہ سرِ زلف ہلاہل بے درازی تیری
رشتہ طول اہل کا بھی سرا پیدا ہو

کس طرح سچ ہے نہ خورشید کو رجعت ہو جائے
تجھ سا آفاق میں جب ماہِ لقا پیدا ہو

کیا مبارک ہے مرا دشتِ جنوں اے ناسخؔ
بیضہ بوم بھی ٹوٹے تو ہما پیدا ہو
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جو اس پری سے شبِ وصل میں رکاوت ہو
مجھے بھی ایک جنارہ ہو یا چھپر کھٹ ہو

محالِ خواب لحد سے ہے گرچہ بیداری
میں چونک اٹھوں اگر اسکے قدم کی آہٹ ہو

نہ میرے پاؤں ہوں زنجیر کے کبھی شاکی
جو اُسکے کاکلِ پیچاں کی ہاتھ میں لٹ ہو

کبود رنگ ہے مسّی کا تیرے ہونٹھ ہیں لال
ملیں جو دونوں تو پیدا نہ کیوں اُداہٹ ہو

مجال کیا کہ ترے گھر میں پاؤں میں رکھوں
یہ آرزو ہے مرا سر ہو تیری چوکھٹ ہو

ہجوم رکھتے ہیں جانبازیاں ترے آگے
جواریوں کا دوالی کو جیسے جمگھٹ ہو

لپٹ کے یار سے سوتا ہوں مانگتا ہوں دُعا
تمام عمر بسر یارب ایک کروٹ ہو

نسیم آہ کے جھوکے سے کھول دوں دم میں
بھڑا ہوا ترے دروازے کا اگر پٹ ہو

جلاؤ غیروں کو مجھ سے جو گرمیاں کرتے
تمہارے کوچے میں تیار ایک مرگھٹ ہو

نہ لگ چلوں میں یہی اپنے دلمیں ٹھانی ہے
تِری طرف سے ہزار اے پری لگاوٹ ہو

وہ منھ چھپاتے ہیں جبتک حجاب سے شبِ وصل
عذارِ صبح سے شب کا نہ دور گھونگھٹ ہو

تری بلائیں مری طرح وہ بھی لیتا ہے
نہ کیونکر آگ میں اسپند کی یہ چٹ پٹ ہو

میں جاں بلب ہوں گلا کاٹو یا گلے سے لگو
جو اس میں آپ کو منظور ہو سو جھٹ پٹ ہو

کرے وہ ذکرِ خدا اے صنم بھلا کس وقت
جسے کہ آٹھ پہر تیرے نام کی رٹ ہو

جو دل کو دیتے ہو ناسخؔ تو کچھ سمجھ کر دو
کہیں یہ مفت میں دیکھو نہ مال تلپٹ ہو

خاک میں مل جائیے ایسا اکھاڑہ چاہیے
لڑکے کُشتی دیو ہستی کو پچھاڑا چاہیے

وہ سہی قد کر کے ورزش خوب زوروں پر چڑھا
کہہ رہا ہے سرو کو جڑ سے اکھاڑا چاہیے

کیوں نہ روئیں پھوٹ کر ہم قصر جاناں کے تلے
دیدہ تر اپنے دریا میں کڑاڑا چاہیے

اور تختوں کی ہماری قبر میں حاجت نہیں
خانہ محبوب کا کوئی کواڑا چاہیے
(دلّی والے کواڑ کہتے ہیں)

ہے شبِ مہتاب فرقت میں تقاضائے جنوں
چادرِ محبوب کو بھی آج پھاڑا چاہیے

انتہائے لاغری سے جب نظر آیا نہ میں
ہنس کے وہ کہنے لگے بستر کو جھاڑا چاہیے

کر چکی ہے تیری رفتار ایک عالم کو خراب
شہرِ خاموشاں کو بھی چل کر اُجاڑا چاہیے

منھ بنائے کیوں ہے قاتل پاس ہے تیغ نگاہ
باغ میں ہنستے ہیں گل تو منھ بگاڑا چاہیے

کوئی سیدھی بات صاحب کی نظر آتی نہیں
آپ کی پوشاک کو کپڑا بھی آڑا چاہیے

تنگ اس وحشت کدہ میں ہوں میں اے جوشِ جنوں
عرش کی سقف محّدب کو لتاڑا چاہیے

آنسوؤں سے ہجر میں برسات رکھیے سال بھر
ہم کو گرمی چاہیے ہرگز نہ جاڑا چاہیے

آج اس محبوب کے دل کو مسخّر کیجیے
عرشِ اعظم پر نشاں نالے کا گاڑا چاہیے

مر گیا ہوں حسرتِ نظارہ ابرو میں مَیں
عین کعبہ میں مرے لاشے کو گاڑا چاہیے

محتسب کو ہو گیا آسیب جو توڑا ہے خم
جوتیوں سے مے کشو جن آج جھاڑا چاہیے

جلد رنگ اے دیدہ خونبار اب تاز نِگاہ
ہے محّرم اس پری پیکر کو ناڑا چاہیے

لڑتے ہیں پریوں سے کشتی پہلوانِ عشق میں
ہم کو ناسخؔ راکپ اندر کا اکھاڑا چاہیے​