آب حیات/مرزا محمد رفیع سودا

سودا تخلص مرزا محمد رفیع نام، شہر دہلی کو اُن کےکمال سے فخر ہے، باپ مرزا محمد شفیع میرزایانِ کابل سے تھے، بزرگوں کا پیشہ سپاہ گری تھی، مرزا شفیع بطریقِ تجارت واردِ ہندوستان ہوئے۔ ہند کی خاکِ دامنگیر نے ایسے قدم پکڑے کہ یہیں رہے۔ بعض کا قول ہے کہ باپ کی سوداگری سوداؔ کے لئے وجہِ تخلص ہوئی لیکن بات یہ ہے کہ ایشیا کے شاعر ہر ملک میں عشق کا دم بھرتے ہیں اور سوداؔ اور دیوانگی عشق کے ہمزاد ہیں۔ اس لئے وہ بھی اِن لوگوں کے لئے باعثِ فخر ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے سوداؔ تخلص کیا اور سوداگری کی بدولت ایہام کی صنعت حصہ میں آئی۔

سوداؔ ۱۱۲۵ء میں پیدا ہوئے، دہلی میں پرورش اور تربیت پائی، کابلی دروازہ کے علاقہ میں ان کا گھر تھا، ایک بڑے پھاٹک میں نشست رہتی تھی، شیخ ابراہیم ذوقؔ علیہ الرحمتہ اکثر ادھر ٹہلتے ہوئے جا نکلتے تھے۔ میں ہمرکاب ہوتا تھا۔ مرزا کے وقت کے حالات اور مقامات کے ذکر کر کے قدرتِ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔

سوداؔ بموجب رسم زمانہ کے اول سلیمان قلی خاں داور کے پھر شاہ حاتم کے شاگرد ہوئے۔ شاہ موصوف نے بھی اپنے دیوان کے دیباچہ میں جو شاگردوں کی فہرست لکھی ہے اُس میں مرزا کا نام اس طرح لکھا ہے۔ جس سے فخر کی خوشبو آتی ہے۔ خوشا نصیب اِس اُستاد کے جس کی گود میں ایسا شاگرد پَل کر بڑا ہوا، خان آرزو کے شاگرد نہ تھے مگر ان کی صحبت سے بہت فائدے حاصل کئے۔ چنانچہ پہلے فارسی شعر کہا کرتے تھے۔ خان آرزو نے کہا کہ مرزا فارسی اب تمھاری زبان مادری نہیں، اس میں ایسے نہین ہو سکتے کہ تمھارا اہل زبان کے مقابل میں قابلِ تعریف ہو۔ طبع موزوں ہے۔ شعر سے نہایت مناسبت رکھتی ہے، تم اُردو کہا کرو تو یکتائے زمانے ہو گے۔ مرزا بھی سمجھ گئے اور دیرینہ سال اُستاد کی نصیحت پر عمل کیا۔ غرض طبیعت کی مناسبت اور مشق کی کثرت سے دلی جیسے شہر میں ان کی اُستادی نے خاص و عام سے اقرار لیا کہ ان کے سامنے ہی ان کی غزلیں گھر گھر اور کوچہ و بازار میں خاص و عام کی زبانوں پر جاری تھیں۔

(مراز محمد زمان عرف سلیمان قلی خاں کے دادا اصفہان سے آئے تھے، یہ دلی میں پیدا ہوئے۔ نواب موسوی خاں کے ساتھ اعزاز سے زندگی بسر کرتے تھے۔ تین سو روپیہ مہینہ پاتے تھے اور شعر کہہ کہہ کر دل خوش کرتے۔ دیکھو مصحفی کا شعرائے فارسی کا تذکرہ۔)

جب کلام کا شہرہ عالمگیر ہوا تو شاہ عالم بادشاہ اپنا کلام اصلاح کے لئے دینے لگے اور فرمائشیں کرنے لگے، ایک دن کسی غزل کے لیے تقاضا کیا۔ اُنھوں نے عذر بیان کیا، حضور نے فرمایا، بھئی مرزا کَے غزلیں روز کہہ لیتے ہو؟ مرزا نے کہا، پیر و مرشد جب طبیعت لگ جاتی ہے دو چار شعر کہہ لیتا ہوں۔ حضور نے فرمایا بھئی ہم تو پائخانہ میں بیٹھے بیٹھے چار غزلیں کہہ لیتے ہیں۔ ہاتھ باندھ کر عرض کی حضور، ویسی بُو بھی آتی ہے۔ یہ کہہ کر چلے آئے۔ بادشاہ نے پھر کئی دفعہ بلا بھیجا اور کہا کہ ہماری غزلیں بناؤ۔ ہم تمھیں ملک الشعراء کر دیں گے، یہ نہ گئے اور کہا کہ حضور کی ملک الشعرائی سے کیا ہوتا ہے۔ کرے گا تو میرا کلام ملک الشعراء کریگا اور پھر ایک بڑا مخمس شہرِ آشوب لکھا :

کہا میں آج یہ سودا سے کیوں ہے ڈانواں ڈول​

بے درد ظاہر بین کہتے ہیں کہ بادشاہ اور دربارِ بادشاہ کی ہجو کی ہے۔ غور دیکھو تو ملک کی دل سوزی میں اپنے وطن کا مرثیہ کہا ہے۔

مرزا دل شکستہ ہو کر گھر میں بیٹھ رہے۔ قدردان موجود تھے۔ کچھ پرواہ نہ ہوئی۔ اِن میں اکثر روسا اور امراء خصوصاً مہربان خاں اور بسنت خاں ہیں جن کی تعریف میں قصیدہ کہا ہے۔

کل حرص نام شخصے سودا پہ مہربان ہو

بولا نصیب تیرے سب دولت جہاں ہو​

حرص کی زبانی دنیا کی دولت اور نعمتوں کا ذکر کر کے خود کہتے ہیں کہ

اے حرص جو کچھ کہا ہے تو نے یہ تجھ کو سب مبارک

میں اور میرے سر پر میرا بسنت خاں ہو​

اِن لوگوں کی بدولت ایسی فارغ البالی سے گزرتی تھی کہ ان کے کلام کا شہرہ جب نواب شجاع الدولہ نے لکھنؤ میں سُنا تو کمالِ اشتیاق سے برادرِ من مشفق مہربان من لکھ کر خط مع سفر خرچ بھیجا اور طلب کیا، انھیں دلی کا چھوڑنا گوارہ نہ ہوا۔ جواب میں فقط اس رباعی پر حُسنِ معذرت کو ختم کیا :

سودا پے دنیا تو بہر سو کب تک؟

آوارہ ازیں کوچہ بآں کو کب تک؟

حاصل یہی اس سے نہ کہ دنیا ہووے

بالفرض ہوا یوں بھی تو پھر تو کب تک؟​

کئی برس کے بعد وہ قدردان مر گئے، زمانے بدل گئے، سودا بہت گھبرائے۔ اس عہد میں ایسے تباہ زدوں کے لئے دہ ٹھکانے تھے، لکھنؤ یا حیدر آباد۔ لکھنؤ پاس تھا اور فیض و سخاوت کی گنگا بہہ رہی تھی، اس لئے جو دلی سے نکلتا تھا اِدھر ہی رُخ کرتا تھا اور اتنا کچھ پاتا تھا کہ پھر دوسری طرف خیال نہ جاتا تھا۔ اس وقت حاکم بلکہ وہاں کے محکوم بھی جویائے کمال تھے۔ نُقطے کو کتاب کے مولوں خریدتے تھے۔

غرض ۶۰ یا ۶۶ برس کی عمر میں دلی سے نکل کر چند روز فرخ آباد میں نواب بنگش کے پاس رہے۔ اُن کی تعریف میں بھی کئی قصیدے موجود ہیں۔ وہاں سے ۱۱۸۵ھ میں لکھنؤ پہنچے۔ نواب شجاع الدولہ کی ملازمت حاصل کی، وہ بہت اعزاز سے ملے اور ان کے آنے پر کمال خورسندی ظاہر کی۔ لیکن یا تو بے تکلفی سے یا طنز سے اتنا کہا کہ مرزا وہ رُباعی تمھاری اب تک میرے دل پر نقش ہے، اور اسی کو مکرر پڑھا۔ اُنھیں اپنے حال پر بڑا رنج ہوا اور بپاسِ وضعداری پھر دربار نہ گئے، یہاں تک کہ شجاع الدولہ مر گئےا ور آصف الدولہ مسند نشین ہوئے۔

لکھنؤ میں مرزا فاخر مکیںؔ زبانِ فارسی کے مشہور شاعر تھے، ان سے اور مرزا رفیع سے بگڑی اور جھگڑے نے ایسا طول کھینچا کہ نواب آصف الدولہ کے دربار تک نوبت پہنچی (عنقریب اس کا حال بہ تفصیل بیان کیا جائے گا) انجام یہ ہوا کہ علاوہ انعام و اکرام کے چھ ہزار روپیہ سالانہ وظیفہ ہو گیا اور نواب نہایت شفقت کی نظر فرمانے لگے۔ اکثر حرم سرا میں خاصہ پر بیٹھے ہوتے اور مرزا کی اطلاع ہوتی، فوراً باہر نکل آتے، شعر سُن کر خوش ہوتے اور اُنھیں انعام سے خوش کرتے تھے۔

جب تک مرزا زندہ رہےنواب مغفرت مآب اور اہلِ لکھنؤ کی قدردانی سے ہر طرح فارغ البال رہے۔ تقریباً ستر برس کی عمر میں ۱۱۹۵ھ میں وہیں دُنیا سے (فخر الدین نے تاریخ کہی : "بولے منصف دُور کر پائے عناد – شاعرانِ ہند کا سرور گیا" ۱۱۹۵ھ مصحفی نے کہا کہ "دوا لجاوآں سخنِ دلفریب او۔ ۱۱۹۵ھ، میر قمر الدین منت نے کہا "بگفت گوہر معنی یتیم شد ہی ۱۱۹۵ھ) انتقال کیا، شاہ حاتم زندہ تھے، سُن کر بہت روئے اور کہا کہ افسوس ہمارا پہلوانِ سخن مر گیا۔

حکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ اواخر عمر میں مرزا نے دلی چھوڑی۔ تذکرہ دل کشا میں ہے کہ ۶۶ برس کی عمر میں مر گئے۔ تعجب ہے کہ مجموعہ سخن جو لکھنؤ میں لکھا گیا ہے اس میں ہے کہ مرزا عالمِ شباب میں وارد لکھنؤ ہوئے۔ غرض چونکہ شجاع الدولہ ۱۱۸۸ھ میں فوت ہوئے تو مرزا نے کم و بیش ۷۰ برس کی عمر پائی۔

ان کے بعد کمال بھی خاندان سے نیست و نابود ہو گیا۔ راقم آثم ۱۸۵۸ء میں لکھنؤ گیا۔ بڑی تلاش کے ایک شخص ملے کہ ان کے نواسے کہلاتے تھے، بیچارے پڑھے لکھے بھی نہ تھے اور نہایت آشفتہ حال تھے۔ سچ ہے :

میراث پدر خواہی علمِ پدر آموز

بندہ عشق شدی ترکِ نسب کن جامی

کاندریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست​

ان کا کلیات ہر جگہ مل سکتا ہے اور قدر و منزلت کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے۔ حکیم سید اصلح الدین خاں نے ترتیب دیا تھا اور اس پر دیباچہ بھی لکھا تھا۔ تھوڑی دیر کے لئے پُرانے محاوروں سے قطعِ نظر کر کے دیکھیں تو سرتاپا نظم اور افشائے اُردو کا دستور العمل ہے، اول قصائد اُردو بزرگانِ دین کی مدح میں اور اہل و دل کی تعریف میں اسی طرح چند قصائد فارسی ۲۴ مثنویاں ہیں۔ بہت سی حکایتیں اور لطائف منظوم ہیں۔ ایک مختصر دیوان فارسی کا تمام و کمال دیوان ریختہ جس میں بہت سی لاجواب غزلیں اور مطلع، رباعیاں، مستزاد، قطعات، تاریخیں، پہلیاں، واسوخت، ترجیع بند، مخمس سب کچھ کہا ہے اور ہر قسم کی نظم میں ہجوئیں ہیں، جو ان کے مخالفوں کے دل و جگر کو کبھی خون اور کبھی کباب کرتی ہیں۔ ایک تذکرہ شعرائے اُردو کا ہے اور وہ نایاب ہے۔

غزلیں اُردو میں پہلے سے بھی لوگ کہہ رہے تھے۔ مگر دوسرے طبقہ تک اگر شعراء نےکچھ مدح میں کہا ہے تو ایسا ہے کہ اُسے قصیدہ نہیں کہہ سکتے، پس اول قصائد کا کہنا اور پھر دھوم دھام سے اعلٰی درجہ فصاحت و بلاغت پر پہنچانا اِن کا فخر ہے، وہ اس میدان میں فارسی کے نامی شہسواروں کے ساتھ عناں در عناں ہی نہیں گئے، بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نکل گئے، ان کے کلام کا زور شور انوریؔ اور خاقانیؔ کو دباتا ہے اور نزاکتِ مضمون میں عرجی و ظہوری کو شرماتا ہے۔

مثنویاں ۲۴ ہیں اور اکثر حکایتیں اور لطائف وغیرہ ہیں۔ وہ سب نظم اور فصاحتِ کلام کے اعتبار سے اِن کا جوہر طبعی ظاہر کرتی ہیں۔ مگر عاشقانہ مثنویاں ان کے مرتبہ کے لائق نہیں۔ میر حسن مرحوم تو کیا، میر صاحب کے شعلہ عشق اور دریائے عشق کو بھی نہیں پہنچیں۔ فارسی کے مختصر دیوان میں سب ردیفیں پوری ہیں، زورِ طبع اور اُصولِ شاعرانہ سب قائم ہیں، صائب کا انداز ہے مگر تجربہ کار جانتے ہیں کہ ایک زبان کی مشق اور مزاولت دوسری زبان کے اعلٰے درجہ کمال پر پہنچنے میں سنگ راہ ہوتی ہیں، چنانچہ شیخ مصحفی نے اپنے تذکرہ میں لکھا ہے "آخر آخر خیال شعر فارسی ہم پیدا گرد۔ مگر از فہم و عقلش ایں امر بعید بود کہ کرد، غرض غزلہائے فارسی خود نیز کہ در لکھنؤ گفتہ بقید ردیف ترتیب دادہ داخل دیوانِ ریختہ نمودہ و ایں ایجادِ اوست۔" دیوانِ ریختہ (وقت کی زبان سے قطع نظر کر کے) باعتبار جوہر کلام کے سرتاپا مرصع ہے، بہت سی غزلیں دلچسپ اور دلپسند بحروں میں ہیں کہ اس وقت تک اُردو میں نہیں آئی تھیں۔ زمینیں سنگلاخ ہیں اور ردیف قافیتے بہت مشکل ہیں۔ جس پہلو سے اُنھیں جما دیا ہے ایسے جمے ہیں کہ دوسرے پہلو سے کوئی ہٹائے تو تمھیں معلوم ہو۔

گرمی کلام کے ساتھ ظرافت جو اُن کی زبان سے ٹپکتی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ بڑھاپے تک شوخیِ طفلانہ ان کے مزاج میں اُمنگ دکھاتی تھی۔ مگر ہجوؤں کا مجموعہ جو کلیات میں ہے، اس کا ورق ورق ہنسنے والوں کے لئے زعفرانِ زار کشمیر کی کیاریاں ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت کی شگفتگی اور زندہ دلی کسی طرح کے فکر و تردد کو پاس نہ آنے دیتی تھی۔ گرمی اور مزاج کی تیزی بجلی کا حکم رکھتی تھی اور اس شدت کے ساتھ کہ نہ کوئی انعام اسے بجھا سکتا تھا نہ کوئی خطرہ اسے دبا سکتا تھا۔ نتیجہ اس کا یہ تھا کہ ذرا سی ناراضی میں بے اختیار ہو جاتے تھے، کچھ اور بس نہ چلتا تھا، جھٹ ایک ہجو کا طومار تیار کر دیتے تھے۔

غنچہ نام اِن کا ایک غلام تھا، ہر وقت خدمت میں حاضر رہتا تھا اور ساتھ قلمدان لئے پھرتا تھا، جب کسی پر بگڑتے تو فوراً پکارتے "ارے غنچہ لا تو قلمدان، ذرا میں اس کی خبر تو لوں، یہ مجھے سمجھا کیا ہے۔" پھر شرم کی انکھیں بند اور بیحیائی کا منھ کھول کر وہ بے نقط سُناتے تھے کہ شیطان بھی امان مانگے۔

عربی اور فارسی دو ذخیرہ وار اُردو کے ہیں، انکے خزانے میں ہجووں کے تھیلے بھرے ہیں، مگر اسوقت تک اُردو کے شاعر صرف ایک دو شعروں میں دل کا غبار نکال لیتے تھے۔ یہ طرزِ خاص کہ جس سے ہجو ایک موٹا ٹہنا اس باغِ شاعری کا ہو گئی، انہی کی خوبیاں ہیں، عالم، جاہل، فقیر، امیر، نیک، بد، کسی کی ڈاڑھی انکے ہاتھ سے نہیں بچی۔ اس طرح پیچھے پڑتے تھے کہ انسان جان سے بیزار ہو جاتا تھا مگر میرضاحک فدوی، مکین، بقا (بقا تخلص، بقاء اللہ خاں نام، اکبر آباد وطن تھا، دہلی میں پیدا ہوئے تھے، لکھنؤ میں جا رہے۔ حافظ لطف اللہ خوشنویس کے بیٹے تھے اور مرزا اور میر صاحب کے معاصر تھے۔ شاہ حاتم سے ریختہ کی اصلاح لی تھی اور فارسی میں مرزا فاخر کے شاگرد تھے۔ طبیعت فنِ شعر کے لئے نہایت مناسب تھی۔ اردو زبان صاف، ایک مطلع ان کا اہل سخن کے جلسوں میں ضرب المثل چلا آتا ہے، لاجواب ہے۔ دیکھو صفحہ ۳۶۲، میرؔ اور سودا دونوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں :

میر و مرزا کی شعر خوانی نے

بسکہ عالم میں دھوم ڈالی تھی

کھول دیوان دونوں صاحب کے

اے بقاؔ ہم نے جب زیارت کی

کچھ نہ پایا سوائے اس کے سخن

ایک تو تو کہے ہے اک ہی ہی​

وغیرہ اہلِ کمال نے بھی چھوڑا نہیں، ان کا کہا انھیں کے دامن میں ڈالا ہے، البتہ حُسنِ قبول اور شہرتِ عام ایک نعمت ہے کہ وہ کسی کے اختیار میں نہیں انھیں خدا نے دی، وہ محروم رہے۔ مرزا نے جو کچھ کہا بچے بچے کی زبان پر ہے۔ انھوں نے جو کہا وہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ انھیں میں سے ایک شعر ہے کہ فدوی (فدوی اصل میں ہندو تھے، مکند رام نام تھا، مسلمان ہو گئے تھے۔ پنجاب وطن تھا، علم کم مگر طبیعت مناسب تھی، شعر اُردو کہتے تھے، صابر علی شاہ کے شاگرد تھے اور فقیرانہ وضع سے زندگی بسر کرتے تھے۔ مشاعرہ میں جاتے تو کبھی بیٹھتے کبھی کھڑے ہی کھڑے غزل پڑھتے اور چلے جاتے تھے۔ جب انھوں نے احمد شاہ کی تعریف میں قصیدہ کہا تو بادشاہ نے ہزار روپیہ نقد اور گھوڑا اور تلوار انعام دی۔ ان کا بھی دماغ بلند ہوا، اور دعوےٰ ملک الشعراء کا کرنے لگے۔ کچھ مرزا پر اعتراض کئے (بقیہ صفحہ 190 پر) کی طبع موزوں سے مرزا صاحب کی شان میں واقع ہوا ہے۔

کچھ کٹ گئی ہے پیتی کچھ کٹ گیا ہے ڈورا

دُم داب سامنے سے وہ اُڑ چلا لٹورا​

بھڑوا ہے، مسخرا ہے سودا اسے ہوا ہے​

مرزا نے جو راجہ نرپت سنگھ کے ہاتھی کی ہجو میں مثنوی کہی ہے۔ اس کے جواب میں بھی کسی نہ مثنوی لکھی ہے اور خوب لکھی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں :

تم اپنے فیلِ معنی کو نکالو

مرے ہاتھی سے دو ٹکر لڑا لو​

سید انشاء نے لکھا ہے کہ دو ٹکریں چاہیے۔ یہ سید صاحب کی سینہ زوری ہے۔

ہجوؤں میں ایک ساقی نامہ ہے جس میں فوتی شاعری کی ہجو ہے۔ اصل میں قیام الدین (یہ صاحبِ کمال چاند پور کے رہنے والے تھے مگر فنِ شعر میں کامل تھے۔ اِن کا دیوان ہر گز میرؔ و مرزاؔ کے دیوان نے نیچے نہیں رکھ سکتے، مگر کیا کیجیے کہ قبولِ عام اور کچھ شے ہے شہرت نہ پائی۔ یہ اول شاہ ہدایت کے شاگرد ہوئے۔ اِن سے ایسی بگڑی کہ ۔۔۔۔ کہی، تعجب یہ ہے کہ شاہ موصوف باوجویکہ حد سے زیادہ خاکساری طبیعت میں رکھتے تھے مگر اُنھوں نے بھی ایک قطعہ ان کے حق میں کہا۔ پھر خواجہ میر دردؔ کے شاگرد ہوئے، ان کے حق میں بھی کہہ سُن کر الگ ہوئے، پھر مرزا کی خدمت میں آئے اور اُن سے پھر ملے۔ مرزا تو مرزا تھے اُنھوں نے سیدھا کیا۔)قائمؔ کی ہجو میں تھا، وہ بزرگ باوجود شاگردی کے مرزا سے منحرف ہو گئے تھے۔ جب یہ ساقی نامہ لکھا گیا تو گھبرائے اور آ کر خطا معاف کروائی۔ مرزا نے اُن کا نام نکال دیا۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۸۹) اِس پر مرزا نے اُلو اور بنیے کی ہجو کہی۔ انجام کو طرفین کی ہجوئیں حد سے گزر گئیں۔ فدوی نواب ضابطہ خاں کے ہاں نوکر بھی ہو گئے تھے اور اخیر کو انھیں بھی لکھنؤ جانا پڑا۔ ان کا دیوان نہایت دلچسپ ہے اور ہر غزل کا خاتمہ پیغمبر صاحب کی نعت یا کسی اور امام کی مدح پر کرتے ہیں۔ زلیخا کا ترجمہ بھی نواب صاحب موصوف کی فرمائش سے نظم کیا ہے۔ گلزارِ ابراہیمی میں لکھا ہے کہ ایک برخود غلط آدمی تھا، مرزا کے مقابلہ کے لئے فرخ آباد میں آیا اور ذلت اٹھا کر گیا۔)

اور فوقی ایک فرضی شخص کا نام ڈال دیا۔

مرثیے اور سلام بھی بہت کہے ہیں، اس زمانہ میں مسدس کی رسم کم تھی۔ اکثر مرثیے چو مصرع ہیں مگر مرثیہ گوئی کی آج کی ترقی دیکھ کر اِن کا ذکر کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ شاید انہی مرثیوں کو دیکھ کر اگلے وقتوں میں مثل مشہور ہوئی تھی کہ بگڑا شاعر مرثیہ گو اور بگڑا گویا مرثیہ خوان۔ حق یہ ہے کہ مرثیہ کا شاعر گویا ایک مصیبت زدہ ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا روتا ہے، جب کسی کا کوئی مر جاتا ہے تو غم و اندوہ کے عالم میں جو بے چارہ کی زبان سے نکلتا ہے سو کہتا ہے اس پر کون بے درد ہے جو اعتراض کرے۔ وہاں صحت و غلطی اور صنائع و بدائع کو کیا ڈھونڈھنا۔ یہ لوگ فقط اعتقاد مذہبی کو مد نظر رکھ کر مرثیے و سلام کہتے تھے، اس لئے قواعدِ شعری کی احتیاط کم کرتے تھے اور کوئی اس پر گرفت بھی نہ کرتا، پھر بھی مرزا کی تیغ زباں جب اپنی اصالت دکھاتی ہے تو دلوں میں چُھریاں ہی مار جاتی ہے۔ ایک مطلع ہے :

یارو سنو تو خالق اکبر کے واسطے

انصاف سے جو اب دو حیدر کیواسطے

وہ بوسہ گہ بنی تھی پیمبر کے واسطے

یا ظالموں کے برش خنجر کے واسطے​

باوجود عیوب مذکورہ بالا کے جہاں کوئی حالت اور روائداد دکھاتے ہیں، پتھر کا دل ہو تو پانی ہوتا ہے اور وہ ضرور آج کل کے مرثیہ گویوں کو دیکھنی چاہیے کیونکہ یہ لوگ اپنے زورِ کمال میں آ کر اس کوچہ سے نکل گئے ہیں (لطف یہ ہے کہ اس زمانہ کے لوگ سودا کے مرثیوں کو کہتے تھے کہ ان میں مرثیت نہیں، شاعری ہے اور سوداؔ خود بھی ان کی بے انصافی سے نالاں ہیں۔)

واسوخت، مخمس، ترجیح بند، مستزاد، قطعہ، رباعیاں، پہیلیاں وغیرہ اپنی اپنی طرز میں لاجواب ہے۔ خصوصاً تاریخیں بے کم و کاست ایسی برمحل و برجستہ واقع ہوئی ہیں کہ ان کےعدم شہرت کا تعجب ہے۔ غض جو کچھ کہا ہے اسے اعلٰے درجہ کمال پر پہنچایا ہے، مرزا کی زبان کا حال نظم میں تو سب کو معلوم ہے کہ کبھی دودھ سے کبھی شربت، مبر نثر میں بڑی مشکل ہوتی ہے۔ فقط مصری کی ڈلیاں چبانی پڑتی ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ نثر اُردو ہے مگر مرزا بیدل کی نثر فارسی معلوم ہوتی ہے۔ کتابِ مذکور اس وقت موجود نہیں لیکن ایک دیباچہ میں اُنھوں نے تھوڑی سی نثر بھی لکھی ہے۔ اس سے افسانہ مذکور کا انداز معلوم ہو سکتا ہے۔ دیکھو صفحہ ۳۴۔

کل اہلِ سخن کا اتفاق ہے کہ مرزا اس فن میں استاد مسلم الثبوت تھے۔ وہ ایسی طبیعت لے کر آئے تھے جو شعر اور فنِ انشاء ہی کے واسطے پیدا ہوئی تھی۔ میرؔ صاحب نے بھی اُنھیں پورا شاعر مانا ہے۔ ان کا کلام کہتا ہے کہ دل کا کنول ہر وقت کھلا رہتا تھا، اس پر سب رنگوں میں ہم رنگ اور ہر رنگ میں اپنی ترنگ، جب دیکھو طبیعت شورش سے بھری اور جوش و خروش سے لبریز، نظم کی ہر فرع میں طبع آزمائی کی ہے اور رُکے نہیں۔ چند صفتیں خاص ہیں، جن سے کلام اُن کا جملہ شعراء سے ممتاز معلوم ہوتا ہے۔ اول یہ کہ زبان پر حاکمانہ قدرت رکھتے ہیں۔ کلام زورِ مضمون کی نزاکت سے ایسا دست و گریبان ہے، جیسے آگ کے شعلہ میں گرمی اور روشنی، بندش کی چُستی اور ترکیب کی درستی سے لفظوں کو اس دردبست کے ساتھ پہلو بہ پہلو جڑتے ہیں، گویا ولایتی طپنچہ کی چانپیں چڑھی ہوئی ہیں اور یہ خاص اُن کا حصہ ہے۔ چنانچہ جب اُن کے شعر میں سے کچھ بھول جائیں تو جب تک وہی لفظ وہاں نہ رکھے جائیں شعر مزا ہی نہیں دیتا، خیالات نازک اور مضامین تازہ باندھتے ہیں مگر اس باریک نقاشی پر اُن کی فصاحت آئینہ کا کام دیتی ہے تشبیہ اور استعارے ان کے ہاں ہیں مگر اسی قدر کہ جتنا کھانے میں نمک یا گلاب کے پھول پر رنگ، رنگینی کے پردہ میں مطلب اسلی کو گم نہیں ہونے دیتے۔

اِن کی طبیعت ایک ڈھنگ کی پابند نہ تھی۔ نئے نئے خیال اور چٹختے قافیئے جس پہلو سے جمتے دیکھتے تھے جما دیتے تھے، اور وہی ان کا پہلو ہوتا تھا کہ خواہ مخواہ سننے والوں کو بھلے معلوم ہوتے تھے۔ یا ان کی خوبی تھی کہ جو بات اس سے نکلتی تھی اس کا انداز نیا معلوم ہوتا تھا، زبان کے ہمعصر استاد خود اقرار کرتے تھے کہ جو باتیں ہم کاوش اور تلاش سے پیدا کرتے ہیں وہ اس شخص کے پیش پا اُفتادہ ہیں۔

جن اشخاص نے زبان اُردو کو پاک صاف کیا ہے مرزا کا اُن میں پہلا نمبر ہے۔ اُنھوں نے فارسی محاوروں کو بھاشا میں کھپا کر ایسا ایک کیا ہے، جیسے علم کیمیا کا ماہر ایک مادہ کو دوسرے مادہ میں جذب کر دیتا ہے اور تیسرا مادہ پیدا کر دیتا ہے کہ کسی تیزاب سے اُس کا جوڑ کھل نہیں سکتا۔ انھوں نے ہندی زبان کو فارسی محاوروں اور استعاروں سے نہایت زور بخشا، اکثر ان میں سے رواج پا گئے، اکثر آگے نہ چلے۔

انھیں کا زورِ طبع تھا، جس کی نزاکت سے دو زبانیں ترتیب پا کر تیسری زبان پیدا ہو گئی، اور اُسے ایسی قبولیت عام حاصل ہوئی کہ آیندہ کے لئے وہی ہندوستان کی زبان ٹھہری، جس نے حکام کے درباروں اور علوم کے خزانوں پر قبضہ کیا۔ اسی کی بدولت ہماری زبان فصاحت اور انشاء پردازی کا تمغہ لے کے شائستہ زبانوں کے دربار میں عزت کی کُرسی پائے گی۔ اہل ہند کو ہمیشہ ان کی عظمت کے سامنے ادب اور ممنونی کا سر جھکانا چاہیے۔ ایسی طبیعتیں کہاں پیدا ہوتی ہیں کہ پسند عام کی نبض شناس ہوں، اور وہی باتیں نکالیں، جن پر قبول عام رجوع کر کے سالہا سال کے لئے رواج کا قبالہ لکھ دے۔

ہر زبان کے اہلِ کمال کی عادت ہے کہ غیر زبان کے بعض الفاظ میں اپنے محاورہ کا کچھ نہ کچھ تصرف کر لیتے ہیں، اس میں کسی موقع پر قادر الکلامی کا زور دکھانا ہوتا ہے، کسی موقع پر محاورہ عام کی پابندی ہوتی ہے، بے خبر کہہ دیتا ہے کہ غلطی کی، مرزا نے بھی کہیں کہیں ایسے تصرف کئے ہیں، چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں :

جیسے کہتا ہے کوئی ہو ترا صفًا صفًا​

ایک غزل میں کہتے ہیں :

لب و لہجہ ترا سا ہے گا کب خوبانِ عالم میں

غلط الزام ہے جگ یں کہ سب مصری کی ڈلیاں ہیں


کل تو مست اس کیفیت سے تھا کہ آتے دیر سے

نظر بھر جو مدرسہ دیکھا سو وہ میخانہ تھا


ساق سیمیں کو ترے دیکھ کے گوری گوری

شمع مجلس میں ہوئی جاتی ہے تھوڑی تھوڑی


اپنے کعبہ کی بزرگی شیخ جو چاہے سو کر

از روئے تاریخ تو بیش از صنم خانہ نہیں​

فارسی محاورہ کو دیکھنا چاہیے کہ کس خوبصورتی سے بول گئے ہیں :

ہے مجھے فیضِ سخن اِس کی ہی مداحی کا

ذات پر جس کی میرہن کنہ عزوجل


بہت ہر ایک سے ٹکرا کے چلے تھے، کالا

ہو گیا دیکھ کے وہ زلفِ سیہ فام سفید


خیال ان انکھڑیونکا چھوڑ مت مرنیکے بعد از بھی

دلا آیا جو تو اس میکدہ میں جام لیتا جا​


سوداؔ کہتا ہے نہ خوباں سے مِل اتنا

تو اپنا غریب عاجز دل بیچنے والا


عاشق بھی نامراد ہیں پر اس قدر لپ پ،

دل کو گنوا بیٹھ رہے صبر کر کے ہم​

یہاں ردیف میں تصرف کیا ہے کہ ے حذف ہو گئی ہے۔ اسی طرح عاجز میں ع، حکیم کی ہجو میں کہتے ہیں :

لکھ دیا مجنوں کو شیر شتر

کہہ دیا مستسقی سے جا فصد کر

ایک کہانی میں لکھتے ہیں :

قضا کار وہ دائیِ نامدار

ہوئی دردِ قولنج سے بے قرار​

مرزا اکثر ہندی کے مضمون اور الفاظ نہایت خفیف طور پر تضمین کر زبان ہند کی اصلیت کا حق ادا کرتے تھے، اس لطف میں یہ اور سید انشاء شامل ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں :

ترکش الینڈ سینہ عالم کا چھان مارا

مژگاں نے تیرے پیارے ارجن کا بان مارا


محبت ۔۔۔ کروں بھیج بل کی تعریف کیا یارو

ستم پربت ہو تو اس کو اُٹھا لیتا ہے جوں رائی


نہیں ہے گھر کوئی ایسا جہاں اسکو نہ دیکھا ہو

کنھیا سے نہیں کچھ کم صنم میرا وہ ہرجائی


ساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے

یہ نین ہیں کہ جن سے یہ جنگل ہرے ہوئے


بوندی کے جمدھرں سے بھڑتے ہیں ہم وگر

لڑکے مجھ آنسوؤں کے غضب منکرے ہوئے


اے دل یہ کس سے بگڑی کہ آتی ہے فوجِ اشک

لختِ جگر کی لاش کو آگے دھرے ہوئے​

(ہندوستان کا قدیم دستور ہے کہ جب سپہ سالار لڑائی میں مارا جاتا تھا تو اس کی لاش کو آگے لے کر تمام فوج کے ساتھ دھاوا کر دیتے تھے۔ سر مہند پر جب دُرانی سے فوج شاہی کی لڑائی ہوئی اور نواب قمر الدین خاں مارے گئے تو میر منوان کے بیٹے نے یہی کیا اور فتحیاب ہوا۔)

مرزا کود الفاظ تراشتے تھے اور اس خوب صورتی سے تراشتے تھے کہ مقبول خاص و عام ہوتے تھے۔ آصف الدولہ مرحوم کی تعریف میں ایک قصیدہ کہا ہے۔ چند شعر اس کے لکھتا ہوں، مضامین ہندی کے ساتھ الفاظ کی خوبصورت تراش کا لطف دیکھو :

تیرے سایہ تلے ہے تو وہ مہنت

پشہ کر جائے دیو دود سے لڑ نت


نام سُن، پیل کوہ پیکر کے

بہہ چلیں جوئے شیر ہو کر ونت


سحر صولت کے سامنے تیرے

سامری بھول جائے اپنی پڑھنت


تیری ہیبت سے یہ فلک کے تلے

کانپتی ہے، زمیں کے بیچ گڑنت


تکلے کی طرح بَل نکل جاوے

تیرے آگے جو وہ کڑے اکڑنت


دیکھ میداں میں اس کو روزِ نبرد

منھ پہ راون کے پھول جائے بسنت


تگتگِ پا اگر سُنے تیرے

داب کر دُم کِھسک چلے ہنونت


آوے بالفرض سامنے تیرے

روز بیجا کے سوریا ساونت


تن کا اِن کے زرہ میں ہو یوں حال

مرغ کی مام میں ہو جو پھڑکنت​

اسی طرح باقی اشعار ہیں، مُرغ کی پھڑکنت، جل کر بھسمنت،تیر کی کمان کی سرکنت، زمین میں کھدنت، گھوڑے کی کڑکنت اور ڈپنت، جَودَنت (مقابل) دبکنت (ڈر کر دبکنا) رویاہ شیر کو سمجھتی ہے کیا پشمنت، نچنت (بیفکر) روپیوں کی بکھرنت، تاروں کی چھٹکنت، لپٹنت (لپٹنا)، پڑھنت (پڑھنا) کھٹنت (کھٹنا) عام شعرائے ہند و ایران کی طرح سب تصنیفات ایک کلیات میں ہیں، اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ کون سا کلام کس وقت کا ہے، اور طبیعت نے وقت بوقت کس طرف میل کیا ہے، خصوصاً یہ کہ زبان میں کب کب کیا کیا اصلاح کی ہے یہ اتفاقی موقع میرؔ صاحب کو ہاتھ آیا کہ چھ دیوان الگ الگ لکھ گئے۔ تبقدین اور متاخرین کے کلاموں کے مقابلے کروانے والے کہتے ہیں کہ ان کے دفتر تصنیفات میں ردی بھی ہے اور وہ بہت ہے۔ چنانچہ جس طرح میرؔ صاحب کے کلام میں بہتر (۷۲) نشتر بتاتے ہیں، ان کے زبردست کلام میں سے بہتر (۷۲) خنجر تیار کرتے ہیں۔ اس رائے میں مجھے بھی شامل ہونا پڑتا ہے کہ بے شک جو کلام آج کی طرف کے موافق ہے وہ ایسے مرتبہ عالی پر ہے جہاں ہمارے تعریف کی پرواز نہیں پہنچ سکتی اور دل کی پوچھو تو جن اشعار کو پُرانے محاوروں کے جرم میں ردی کرتے ہیں، آج کے ہزار محاورے اُن پر قربان، سُن لیجیے :

گر کیجیے انصاف تو کی روز وفا میں

خط آتے ہی سب ٹل گئے اب آپ ہیں یا میں


تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے اِن کی

لیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلا میں


کیفیتِ چشم اُس کی مجھے یاد ہے سوداؔ

ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجیو کہ چلا میں​

اُستاد مرحوم کہا کرتے تھے کہ جب سودا کے سامنے کوئی یہ شعر پڑھ دیتا تھا یا اپنی ہی زبان پر آ جاتا تو وجد کیا کرتے تھے اور مزے لیتے تھے، اسی انداز کا ایک شعر نظیری کا یاد آ گیا، اگرچہ فارسی ہے مگر جی نہیں چاہتا کہ دوستوں کو لطف سے محروم رکھوں :

بوئے یارِ من ازیں سُست وفامی آید

گلم از دست بگیرید کہ از کارشدم​

بہارِ سخن کے گلچینو! وہ ایک زمانہ تھا کہ ہندی بھاشا کی زمین میں جہاں دوہروں کا سبزہ خودرَو اُگا ہوا تھا وہاں نظم فارسی کی تخم ریزی ہوئی تھی، اسی وقت فارسی بحروں میں شعر کہنا اور ادھر کے محاورات کو ادھر لینا اور فارسی مضامین کو ہندی لباس پہنانا ہی بڑا کمال تھا، اس صاحبِ ایجاد نے اپنے زورِ طبع اور قوتِ زبان سے صنعتوں اور فارسی کی ترکیبوں اور اچھوتے مضمونوں کو اس میں ترتیب دیا۔ اور وہ خوبی پیدا کی کہ ایہام اور تجنیس وغیرہ صنائع لفظی جو ہندی دوہروں کی بنیاد تھی، اُسے لوگ بھول گئے، ایسے زمانے کے کلام میں رطب دیابس ہو تو تعجب کیا، ہم اس الزام کا بُرا نہیں مانتے۔

اس وقت زمینِ سخن میں ایک ہی آفت تو نہ تھی، اِدھر تو مشکلات مذکورہ، ادھر پُرانے لفظوں کا ایک جنگل، جس کا کاٹنا کٹھن، پس کچھ اشخاص آئے کہ چند کیاریاں تراش کر تخم ریزی کر گئے۔ ان کے بعد والوں نے جنگل کو کاٹا، درختوں کو چھانٹا، چمن بندی کو پھیلایا، جو ان کے پیچھے آئے، اُنھوں نے روش، خیاباں، داربست گلکاری نہال گلبن سے باغ سجایا، غرض عہد بعہد اصلاحیں ہوتی رہیں اور آیندہ ہوتی رہیں گی۔ جس زبان کو آج ہم تکمیلِ جاودانی کا ہار پہنائے خوش بیٹھے ہیں، کیا یہ ہمیشہ ایسی ہی رہے گی؟ کبھی نہیں، ہم کس منھ سے اپنی زبان کا فخر کر سکتے ہیں، کیا دورِ گذشتہ کا سماں بھول گئے، ذرا پھر کر دیکھو تو ان بزرگانِ متقدمین کا مجمع نظر آئے گا کہ محمد شاہی دربار کی کھڑکی دار پگڑیاں باندھے ہیں، پچاس پچاس گز گھیر کے جامے پہنے بیٹھے ہیں، وہاں اپنے کلام لے کر آؤ، جس زبان کو تم نئی تراش اور ایجاد و اختراع کا خلعت پہناتے ہو کیا وہ اُسے تسلیم کریں گے؟ نہیں ہرگز نہیں، ہماری وضع کو سفلہ اور گفتگو کو چھچھورا سمجھ کر منھ پھیر لیں گے، پھر ذرا سامنے دُوربین لگاؤ، دیکھو اُن تعلیم یافتہ لوگوں کو لین ڈوری آ چکی ہے جو آئے گا ہم پر ہنستا چلا جائے گا۔

یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اُڑ جائیں گے​

مرزا قتیل چار شربت میں فرماتے ہیں، مرزا محمد رفیع سوداؔ در ریختہ پایہ مُلا ظہوری دارد و غیر ازئیکہ زبانِ ہر دو باہر تخالف دارد فرقے نتواں کرد" مرزا قتیل مرحوم صاحب کمال شخص تھے، مجھ بے کمال نے اِن کی تصنیفات سے بہت فائدے حاصل کئے ہیں، مگر ظہوری کی کیا غزلیں کیا قصائد دونوں استعاروں اور تشبیہوں کے پھندوں سے الجھا ہوا ریشم ہیں، سوداؔ کی مشابہت ہے تو انوریؔ سے ہے کہ محاورہ اور زبان کا حاکم اور قصیدہ اور ہجو جا بادشاہ ہے۔

یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ تصوف جو ایشیا کی شاعری کی مرغوب نعمت ہے، اس میں مرزا پھیکے ہیں۔ وہ حصہ خواجہ میر دردؔ کا ہے۔

کہتے ہیں کہ مرزا قصیدہ کے بادشاہ ہیں، مگر غزل میں میر تقی کے برابر سوز و گداز نہیں، یہ بات کچھ اصلیت رکھتی ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے بھی اس بات کے چرچے تھے چنانچہ خود کہتے ہیں :

لوگ کہتے ہیں کہ سوداؔ کا قصیدہ ہے خوب

اُن کی خدمت میں لئے میں یہ غزل جاؤنگا​

یعنی دیکھو تو سہی غزل کچھ کم ہے۔

قدرت اللہ خاں قاسمؔ بھی اپنے تذکرہ میں فرماتے ہیں "زعم بعضے آنکہ سرآمدِ شعرائے فصاحت آقا مرزا محمد رفیع سودا اور غزل گوئی بوئے رسیدہ اماحق آفست کہ :

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

مرزا دریائیست بیکراں، و میر نہرست​

عظیم الشان، درمعلوماتِ قواعد میر رابرتری ست و درقوتِ شاعری مرزا رابرمیرؔ سروری، اصل حقیقت یہ ہے کہ قصیدہ، غزل، مثنوی وغیرہ اقسامِ شعر میں ہر کوچہ کی راہ جدا جدا ہے، جس طرح قصیدہ کے لئے شکوہِ الفاظ اور بلندی مضامین، چستی ترکیب وغیرہ لوازمات ہیں، اسی طرح غزل کے لئے عاشق و معشوق کے خیالات عشقیہ صاف صاف نرم نرم، گویا وہی دونوں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ اس کے ادائے مضامین کے الفاظ بھی اور ہیں اور اس کی بحریں بھی خاص ہیں۔ میر صاحب کی طبیعت قدرتی درد خیز اور دل حسرت انگیز تھا کہ غزل کی جان ہے۔ اس لئے ان کی غزلیں ہی ہیں اور خاص خاص بحور و قوافی میں ہیں۔ مرزا کہ طبیعت ہمہ رنگ اور ہمہ گیر، ذہن براق اور زبان مشاق رکھتے تھے، تو سنِ فکر اِن کا منھ زور گھوڑے کی طرح جس طرف جاتا تھا رُک نہ سکتا تھا، کوئی بحر اور کوئی قافیہ ان کے ہاتھ آئے تغزلی کی خصوصیت نہیں رہتی تھی۔ جس برجستہ مضمون میں بندھ جائے باندھ لیتے تھے، بے شک اِن کی غزلوں کے بھی اکثر شعر چستی اور درستی میں قصیدہ کا رنگ دکھاتے ہیں۔

ایک دن لکھنؤ میں میرؔ اور مرزا کے کلام پر دو شخصوں نے تکرار میں طول کھینچا۔ دونوں خواجہ باسط کے مرید تھے۔ انھیں کے پاس گئے اور عرض کی کہ اپ فرمائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ دونوں صاحب کمال ہیں مگر فرق اتنا ہے کہ میر صاحب کا کلام آہ ہے اور مرزا صاحب کا کلام واہ ہے۔ مثال میں میر صاحب کا شعر پڑھا :

سرھانے میرؔ کے آہستہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے​

پھر مرزا کا شعر پڑھا :

سودا کے جو بالیں پہ ہوا شورِ قیامت

خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے

لطیفہ در لطیفہ – ان میں سے ایک شخص جو مرزا کے طرفدار تھے وہ مرزا کے پاس بھی آئے اور سارا ماجرا بیان کیا، مرزا بھی میر صاحب کے شعر سُن کر مُسکرائے اور کہا شعر تو میرؔ کا ہے مگر داد خواہی ان کی دوا کی معلوم ہوتی ہے۔

رسالہ عبرہ الغافلین طبعِ شاعر کے لئے سیڑھی کا کام دیتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا فقط طبعی شاعر نہ تھے بلکہ اس فن کے اصول و فروغ میں ماہر تھے۔ اِس کی فارسی عبارت بھی زباں دانی کے ساتھ ان کی شگفتگی اور شوخیِ طبع کا نمونہ ہے، اس کی تالیف ایک افسانہ ہے اور قابل سننے کے ہے، اس زمانہ میں اشرف علی نامی ایک شریف خاندانی شخص تھے۔ اُنھوں نے فارسی کے تذکروں اور اُستادوں کے دیوانوں میں سے ۱۵ برس کی محنت میں ایک انتخاب مرتب کیا اور تصحیح کے لئے مرزا فاخر مکیںؔ کے پاس لے گئے کہ ان دونوں فارسی کے شاعروں میں نامور وہی تھے۔ انھوں نے کچھ انکار، کچھ اقرار، بہت سے تکرار کے بعد انتخاب مذکور کو رکھا اور دیکھنا شروع کیا۔ مگر جابجا اُستادوں کے اشعار کو کہیں بے معنی سمجھ کر کاٹ ڈالا، کہیں تیغِ اصلاح سے زخمی کر دیا۔ اشرف علی خاں کو جب یہ حال معلوم ہوا تو گئے اور بہت سے قیل و قال کے بعد انتخابِ مذکور لے آئے، کتاب اصلاحوں سے چھلنی ہو گئی تھی۔ اس لئے بہت رنج ہوا۔ اسی عالم میں مرزا کے پاس لا کر سارا حال بیان کیا اور انصاف طلب ہوئے۔ ساتھ اس کے یہ بھی کہ آپ اسے درست کر دیجیے۔

انھوں نے کہا کہ مجھے فارسی زبان کی مشق نہیں، اُردو میں جو چند لفظ جوڑ لیتا ہوں، خدا جانے دلوں میں کیونکر قبولیت کا خلعت پا لیا ہے۔ مرزا فاخر مکیں فارسی داں اور فارسی کے صاحبِ کمال ہیں۔ انھوں نے جو کچھ کیا ہو گا سمجھ کر کیا ہو گا۔ آپ کو اصلاح منظور ہے تو شیخ علی حزیںؔ مرحوم کے شاگرد شیخ آیت اللہ ثناؔ، میر شمس الدین فقیر کے شاگرد مرزا بھچو ذرہؔ تخلص موجود ہیں، حکیم بو علی خاں ہاتف بنگالہ میں، نظام الدین صانعؔ بلگرامی فرخ آباد میں، شاہ نور العین واقفؔ شاہجہاں آباد میں ہیں۔ یہ اُن لوگوں کے کام ہیں۔

جب مرزا نے اِن نامور فارسی دانوں کے نام لئے تو اشرف علی خاں نے کہا کہ ان لوگوں کو تو مرزا فاخر خاطر میں بھی نہیں لاتے، غرضیکہ ان کے اصرار سے مرزا نے انتخاب مذکور کو رکھ لیا، دیکھا تو معلوم ہوا کہ جو جو باکمال سلف سے آجتک مسلم الثبوت چلے آتے ہیں اُن کے اشعار تمام زخمی تڑپتے ہیں۔ یہ حال دیکھ کر مرزا کو بھی رنج ہوا۔ بموجب صورتِ حال کے رسالہ عبرت الغافلین لکھا اور مرزا فاخر کی غلط فہمیوں کو اصول انشاء پردازی کے بموجب کماحقہ ظاہر کیا۔ ساتھ ان کے دیوان پر نظر ڈال کر اس کی غلط فہمیاں بھی بیان کیں اور جہاں ہو سکا اصلاح مناسب دی۔

مرزا فاخر کو بھی خبر ہوئی، بہت گھبرائے اور چاہا کہ زبانی پیاموں سے ان داغوں کو دھوئیں، چنانچہ بقاء اللہ خاں بقاؔ کو گفتگو کے لئے بھیجا، وہ مرزا فاخر کے شاگرد تھے، بڑے مشاق اور باخبر شاعر تھے، مرزا اور ان سے خوب خوب گفتگوئیں رہیں، اور مرزا فاخر کے بعض اشعار جن کے اعتراضوں کی خبر اُڑتے اُڑتے اِن تک بھی پہنچ گئی تھی، ان پر رد و قدح بھی ہوئی، چنانچہ ایک شعر ان کا تھا :

​گرفتہ بود دریں بزم چوں قدح دلِ من

شگفتہ روئی صہبا شگفتہ کرد مرا​

مرزا کو اعتراض تھا کہ قدح کو گرفتہ دل کہنا بیجا ہے، اہلِ انشاء نے ہمیشہ قدح کو کھلے پھولوں سے تشبیہ دی ہے یا ہنسی سے کہ اُسے بھی شگفتگی لازم ہے۔ بقاؔ نے جواب میں شاگردی کا پسینہ بہت بہایا اور اخیر کو باذل کا ایک شعر بھی سند میں لائے :

چہ نشاط بادہ بخشد بمنِ خراب بے تو

یہ دلِ گرفتہ ماند قدحِ شراب بے تو​

مرزا رفیع سُن کر بہت ہنسے اور کہا کہ اپنے استاد سے کہنا کہ استادوں کے شعروں کو دیکھا کرو تو سمجھا بھی کرو، یہ شعر تو میرے اعتراض کی تائید کرتا ہے، یعنی باوجودیکہ پیالہ ہنسی اور شگفتگی میں ضرب المثل ہے اور پیالہ شراب سامانِ نشاط ہے مگر وہ بھی دلِ افسردہ کا حکم رکھتا ہے۔

عرض جب یہ تدبیر پیش نہ گئی تو مرزا فاخر نے اور راہ لی، شاگرد لکھنؤ میں بہت تھے، خصوصاً شیخ زادے کہ ایک زمانہ میں وہی ملکِ اودھ کے حاکم بنے ہوئے تھے اور سینہ زوری اور سرشوری کے بخار ابھی تک دماغوں سے گئے نہ تھے۔ ایک دن سودا تو بے خبر گھر میں بیٹھے تھے وہ بلوہ کر کے چڑھ آئے۔ مرزا کے پیٹ پر چُھری رکھ دی اور کہا کہ جو کچھ تم نے کہا ہے وہ سب واپس لو اور ہمارے استاد کے سامنے چل کر فیصلہ کرو، مرزا کو مضامین کے گل پھول اور باتوں کے طوطے مینا تو بہت بنانے آتے تھے، مگر یہ مضمون ہی نیا تھا، سب باتیں بھول گئے۔ بچارنے نے جُزدان غلام کو دیا، خود میانے میں بیٹھے اور ان کے ساتھ ہوئے۔ گرووہ لشکر شیطان تھا۔ یہ بیچ میں تھے، چوک میں پہنچے تو اُنھوں نے چاہا کہ یہاں انھیں بے عزت کیجیے، کچھ تکرار کر کے پھر جھگڑنے لگے، مگر جسے خدا عزت دے، اُسے کون بے عزت کر سکتا ہے، اتفاقاً سعادت علی خاں کی سواری آ نکلی، مجمع دیکھ کر ٹھہر گئے اور حال دریافت کر کے سوداؔ کو اپنے ساتھ ہاتھی پر بٹھا کر لے گئے۔ آصف الدولہ حرم سرا میں دستر خوان پر تھے۔ سعادت علی خاں اندر گئے اور کہا بھائی صاحب بڑا غضب ہے آپ کی حکومت میں! اور شہر میں یہ قیامت۔ آصف الدولہ نے کہا کیوں بھئی خیر باشد، انھوں نے کہا کہ مرزا رفیع، جس کو باوا جان نے برادر من، مشفق مہربان کہہ کر خط لکھا، آرزوئیں کر کے بلایا اور وہ نہ آیا، آج وہ یہاں موجود ہے اور اس حالت میں ہے کہ اگر اس وقت میں نہ پہونچتا تو شہر کے بدمعاشوں نے اِس بیچارے کو بے حرمت کر ڈالا تھا اور پھر سارا ماجرا بیان کیا۔

آصف الدولہ فرشتہ خصال گھبرا کر بولے کہ بھئی مرزا فاخر نے ایسا کیا تو مرزا کر کیا گویا ہم کو بے عزت کیا۔ باوا جان نے انھیں بھائی لکھا تو وہ ہمارے چچا ہوئے۔ سعادت علی خاں نے کہا کہ اس میں کیا شبہ ہے! اُسی وقت باہر نکل آئے۔ سارا حال سُنا، بہت غصہ ہوئے اور حکم دیا کہ شیخ زادوں کا محلہ کا محلہ اکھڑوا کر پھینک دو اور شہر سے نکلوا دو۔ مرزا فاخر کو جس حال میں ہو اسی حال سے حاضر کرو۔ سوداؔ کی نیک نیتی دیکھنی چاہیے، ہاتھ باندھ کر عرض کی کہ جناب عالی! ہم لوگوں کی لڑائی کاغذ قلم کے میدان میں آپ ہی فیصل ہو جاتی ہے، حضور اس میں مداخلت نہ فرمائیں، غلام کی بدنامی ہے۔ جتنی مدد حضور کے اقبال سے پہنچی ہے وہی کافی ہے۔ غرض مرزا رفیع باعزازو اکرام وہاں سے رخصت ہوئے، نواب نے احتیاطاً سپاہی ساتھ کر دیئے۔

حریفوں کو جب یہ راز کھلا تو امرائے دربار کے پاس دوڑے، صلاح ٹھہری کہ معاملہ روپیہ یا جاگیر کا نہیں، تم سب مرزا فاخر کو ساتھ لے کر مرزا رفیع کے پاس چلے جاؤ اور خطا معاف کروا لو۔ دوسرے دن آصف الدولہ نے سردربار مرزا فاخر کو بھی بلایا اور کہا تمھاری طرف سے بہت نازیبا حرکت ہوئی۔ اگر شعر کے مردِ میدان ہو تو اب روبرو سوداؔ کے ہجو کہو۔ مرزا فاخر نے کہا "ایں ازمانمے آید"، آصف الدولہ نے بگڑ کر کہا درست، ایں از شمانمے آید، ایں مے آید کہ شیاطین خود را برسرِ میرزائے بےچارہ فرستاوند از خانہ ببارش کشیدند و مے خواستند آبرویش بخاک ریزند، پھر سوداؔ کی طرف اشارہ کیا، یہاں کیا دیر تھی، فی البدیہہ رباعی پڑھی :

تو فخرِ خراسانی وفا ساقط ازد

گوہر بدہاں داری وفا ساقط ازد

روزان و شباں زحق تعالٰی خواہم

مرکب و بدت، خدا و با ساقط ازد​

یہ جھگڑا تو رفع دفع ہوا مگر دُور دُور سے ہجوؤں میں چوٹیں چلتی رہیں۔ لطف یہ ہے کہ مرزا فاخر کی کہی ہوئی ہجوئیں کوئی جانتا بھی نہیں۔ سودا نے جو کچھ اُن کے حق میں کہا وہ ہزاروں کی زبان پر ہے۔