آب حیات/مومن خاں صاحب مومن

تمہید​

پہلی دفعہ اس نسخہ میں مومنؔ خاں صاحب کا حال نہ لکھا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ دور پنجم جس سے ان کا تعلق ہے بلکہ دور سوم و چہارم کو بھی اہل نظر دیکھیں کہ جو اہل کمال اس میں بیٹھے ہیں کس لباس و سامان کے ساتھ ہیں۔ کسی مجلس میں بیٹھا ہوا انسان جبھی زیب دیتا ہے کہ اسی سامان و شان اور وضع و لباس کے ساتھ ہو، جو اہل محفل کے لئے حاصل ہے۔ نہ ہو تو ناموزوں معلوم ہوتا ہے۔ خان موصوف کے کمال سے مجھے انکار نہیں۔ اپنے وطک کے اہل کمال کا شمار بڑھا کر اور ان کے کمالات دکھا کر ضرور چہرہ فخر کا رنگ چمکاتا، لیکن میں نے ترتیب کتاب کے دنوں میں اکثر اہل وطن کو خطوط لکھوائے اور لکھے، وہاں سے جواب صاف آیا وہ خط بھی موجود ہیں۔ مجبوراً ان کا حال قلم انداز کیا۔ دنیا کے لوگوں نے اپنے اپنے حوصلہ کے بموجب جو چاہا سو کہا۔ آزاد نے سب کی عنایتوں کو شکریہ کا دامن پھیلا کر لے لیا۔ ذوقؔ :

وہ گالیاں کہ بوسہ خوشی پر ہے آپ کی

رکھتے فقیر کام نہیں رد و کد سے ہیں​

البتہ افسوس اس بات کا ہے کہ بعض اشخاص جنھوں نے میرے حال پر عنایت کر کے حالات مذکورہ کی طلب و تلاش میں خطوط لکھے اور سعی انکی ناکام رہی انھوں نے بھی کتاب مذکور پر ریویو لکھا مگر اصل حال نہ لکھا، کچھ نہ کچھ اور ہی لکھ دیا۔ میں نے اسی وقت دہلی اور اطراف دہلی میں ان اشخاص کو خطوط لکھنے شروع کر دے جو خان موصوف کے خیالات سے دل گلزار رکھتے ہیں، اب طبع ثانی سے چند مہینے پہلے تاکید و التجا کے نیاز ناموں کو جولانی دی۔ انہی میں سے ایک صاحب کے الطاف و کرم کا شکر گذار ہوں جنھوں نے باتفاق احباب اور صلاح ہوگر جزئیات احوال فراہم کر کے چند ورق مرتب کئے اور عین حالت طبع میں کہ کتاب مذکور قریب الاختتام ہے مع ایک مراسلہ کے عنایت فرمائیے بلکہ اس میں کم و بیش کی بھی اجازت دی۔ میں نے فقط بعض روائتیں اور بہت سی روائتیں مختصر کر دیں یا چھوڑ دیں، جن سے ان کے نفس شاعری کو تعلق نہ تھا، باقی اصل کو بجنسہ لکھ دیا۔ آپ ہر گز دخل و تصرف نہیں کیا، ہاں کچھ کہنا ہوا تو حاشیہ پر خط وجدانی میں لکھ دیا جو احباب پہلے شاکی تھے امید ہے کہ اس فروگذاشت کو معاف فرمائیں گے۔

مومنؔ خاں صاحب کا حال – ان کے والد حکیم نبی حاں ولد حکیم نامدار خاں شہر کے شرفاء میں سے تھے، جن کی اصل بخبائے کشمیر سے تھی۔ اول حکیم نامدار خاں اور حکیم کامدار خاں دو بھائی سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں آ کر بادشاہی طبیبوں میں داخل ہوئے۔ شاہ عالم کے زمانہ میں موضع بلابہ وغیرہ پرگنہ نازنول میں جاگیر پائی۔ جب سرکار انگریزی نے جھجھر کی ریاست نواب فیض طلب خاں کو عطا فرمائی تو پرگنہ نازنول بھی اسمیں شامل تھا، رئیسں مذکور نے ان کی جاگیر ضبط کر کے ہزار روپیہ سالانہ پنشن ورثہ حکیم نامدار خاں کے نام مقرر کی دی، پنشن مذکور میں سے حکیم غلام نبی خاں صاحب نے اپنا حصہ لیا اور اس میں سے حکیم مومنؔ خاں نے اپنا حق پایا، اسکے علاوہ ان کے خاندان کے چار طبیبوں کے نام پر سو (۱۰۰) روپیہ ماہوار پنشن سرکار انگریزی سے بھی ملتی تھی، اس میں سے ایک چوتھائی ان کے والد کو اور ان کے بعد اس میں سے ان کو حصہ ملتا۔

ان کی ولادت ۱۲۱۵ھ میں واقع ہوئی، بزرگ جب دلی میں آئے تو چیلوں کے کوچہ میں رہے تھے۔ وہیں خاندان کی سکونت رہی۔ شاہ عبد العزیز صاحب کا مدرسہ وہاں سے بہت قریب تھا۔ ان کے والد کو شاہ صاحب سے کمال عقیدت تھی، جب یہ پیدا ہوئے تو حضرت ہی نے آ کر ان میں اذان دی اور مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں نے اس نام کو ناپسند کیا اور حبیب اللہ نام رکھنا چاہا، لیکن شاہ صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔

بچپن کی معمولی تعلیم کے بعد جب ذرا ہوش سنبھالا تو والد نے شاہ عبد القادر صاحب کی خدمت میں پہنچایا، ان سے عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھتے رہے، حافظہ کا یہ حال تھا کہ جو بات شاہ صاحب سے سنتے تھے فوراً یاد کر لیتے تھے، اکثر شاہ عبد العزیز صاحب کا وعظ ایک دفعہ سن کر بعینہ اسی طرح ادا کر دیتے تھے، جب عربی میں کسی قدر استعداد ہو گئی تو والد اور چچا حکیم غلام حیدر خاں اور حکیم غلام حسن سے طب کی کتابیں پڑھیں اور انھیں کے مطب میں نسخہ نویسی کرتے رہے۔

تیز طبیعت کا خاصہ ہے کہ ایک فن پر دل نہیں جمتا۔ اس نے بزرگوں کے علم یعنی طبابت پر تھمنے نہ دیا، دل میں طرح طرح کے شوق پیدا کئے۔ شاعری کے علاوہ نجوم کا خیال آیا، اس کو اہل کمال سے حاصل کیا او رمہارت بہم پہنچائی، ان کو نجوم سے قدرتی مناسبت تھی، ایسا ملکہ بہم پہونچایا تھا کہ احکام سن سن کر بڑے بڑے منجم حیران رہ جاتے تھے، سال بھر میں ایک بار تقویم دیکھتے تھے، پھر برس دن تک تمام ستاروں کے مقام اور ان کی حرکات کیفیت ذہن میں رہتی تھی۔ جب کوئی سوال پیش کرتا، نہ زائچہ کھینچتے نہ تقویم دیکھتے، پوچھنے والے سے کہتے کہ تم خاموش رہو جو میں کہتا جاؤں اس کا جواب دیتے جاؤ، پھر مختلف باتیں پوچھتے تھے، اور سائل اکثر تسلیم کرتا جاتا تھا۔

ایک دن ایک غریب ہندو نہایت بےقرار اور پریشان آیا۔ ان کے بیس (۲۰) برس کے رفیق قدیم شیخ عبد الکریم اس وقت موجود تھے۔ خاں صاحب نے اسے دیکھ کر کہا کہ تمھارا کچھ مال جاتا رہا ہے؟ اس نے کہا میں لٹ گیا۔ کہا کہ خاموش رہو۔ جو میں کہوں اسے سنتے جاؤ، جو بات غلط ہو، اس کا انکار کر دینا، پھر پوچھا کیا زیور کی قسم سے تھا؟ صاحب ہاں وہی عمر بھر کی کمائی تھی، کہا تم نے لیا ہے یا تمہاری بیوی نے، کوئی غیر چرانے نہیں آیا۔ ان نے کہا میرا مال تھا اور بیوی کے پہننے کا زیور تھا، ہم کیوں چراتے، ہنس کر فرمایا، کہیں رکھ کر بھول گئے ہو گے۔ مال کہیں باہر نہیں گیا۔ اس نے کہا، صاحب سارا گھر ڈھونڈھ مارا، کوئی جگہ باقی نہ رہی، فرمایا پھر دیکھو، گیا اور سارے گھر میں اچھی طرح دیکھا، پھر آ کر کہا، صاحب میرا چھوٹا سا گھر ہے، ایک ایک کونہ دیکھ لیا، کہیں پتہ نہ لگا۔ خاں صاحب نے کہا، اسی گھر میں ہے، تم غلط کہتے ہو، کہا آپ چل کر تلاشی لے لیجئے، میں تو ڈھونڈھ چکا، فرمایا میں یہیں سے بتاتا ہوں۔ یہ کہہ کر انکے سارے گھر کا نقشہ بیان کرنا شروع کیا۔ وہ سب باتوں کو تسلیم کرتا جاتا تھا، پھر کہا، اس گھر میں جنوب کے رخ ایک کوٹھری ہے اور اس میں شمال کی جانب ایک لکڑی کا مچان ہے اس کے اوپر مال موجود ہے۔ جا کر لے لو، اس نے کہا مچان کو تین دفعہ چھان مارا وہاں نہیں، فرمایا اسی کے ایک کونے میں پڑا ہے، غرض وہ گیا اور جب روشنی کر کے دیکھا تو ڈبّا اور اس میں سارا زیور جوں کا توں وہیں سے مل گیا۔

ایک صاحب کا مراسلہ اسی تحریر کے ساتھ مسلسل پہنچا ہے جسمیں اور قسم کے اسرار نجومی ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں اور انکے شاگردوں کی تفصیل بھی لکھی ہے۔ آزاد ان کے درج کرنے میں قاصر ہے۔ معاف فرمائیں، زمانہ ایک طرح کا ہے لوگ کہیں گے تذکرہ شعراء لکھنے بیٹھا اور نجومیوں کا تذکرہ لکھنے لگا۔

خاں صاحب نے اپنی نجوم دانی کو ایک غزل کے شعر میں خوبی سے ظاہر کیا ہے۔

ان نصیبوں نے کیا اختر شناس

آسمان بھی ہے ستم ایجاد​

شطرنج سے بھی ان کو کمال مناسبت تھی۔ جب کھیلنے بیٹھتے تھے تو دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہتی تھی اور گھر کے نہایت ضروری کام بھی بھول جاتے تھے۔ دلی کے مشہور شاطر کرامت علی خاں سے قرابت قریبہ رکھتے تھے اور شہر کے ایک دو مشہور شاطروں کے سوا کسی سے کم نہ تھے۔

شعر و سخن سے انھیں طبعی مناسبت تھی، اور عاشق مزاجی نے اسے اور بھی چمکا دیا تھا۔ انھوں نے ابتداء میں شاہ نصیر مرحوم کو اپنا کلام دکھایا مگر چند روز کے بعد ان سے اصلاح لینی چھوڑ دی۔ اور پھر کسی کو استاد نہیں بنایا۔

ان کے نامی شاگرد نواب مصطفٰے خاں شیفتہ صاحب تذکرہ گلشنِ مے خار خلف نواب اعظم الدولہ سرفراز الملک مرتضی خاں مظفر جنگ بہادر رئیس پلول اور ان کے چھوٹے بھائی نواب اکبر خاں کہ ۴ برس ہوئے راولپنڈی میں دنیا سے انتقال کیا، میر حسین تسکینؔ کہ نہایت ذکی الطبع شاعر تھے، سید غلام خاں وحشتؔ۔ غلام ضامن کرمؔ۔ نواب اصغر علی خاں کہ پہلے اصغرؔ تخلص کرتے تھے، پھر نسیمؔ تخلص اختیار کیا اور مرزا خدا بخش قیصر شہزادے وغیرہ تھے۔

رنگین طبع، رنگین مزاج، خوش وضع، خوش لباس، کشیدہ قامت سبزہ رنگ، سر پر لمبے لمبے گھونگھر والے بال اور ہر وقت انگلیوں سے ان میں کنگھی کرتے رہتے تھے، ململ کا انگرکھا، ڈھیلے ڈھیلے پائنچے، اس میں لال نیفہ بھی ہوتا تھا، میں نے انھیں نواب اصغر علی خاں اور مرزا خدا بخش قیصر کے مشاعروں میں غزل پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ ایدی درد ناک آواز سے دلپذیر ترنم کے ساتھ پڑھتے تھے کہ مشاعرہ وجد کرتا۔ اللہ اللہ اب تک وہ عالم آنکھوں کے سامنے ہے، باتیں کہانیاں ہو گئیں۔ باوجود اس کے نیک خیالوں سے بھی ان کا دل خالی نہ تھا، نوجوانی ہی میں مولانا سید احمد صاحب بریلوی کے مرید ہوئے کہ مولوی اسمٰعیل صاحب کے پیر تھے، خاں صاحب ان ہی کے عقائد کے بھی قائل رہے۔

انھوں نے کسی کی تعریف میں قصیدہ نہیں کہا، ہاں راجہ اجیت سنگھ برادر راجہ کرم سنگھ رئیس پٹیالہ جو دہلی میں رہتے تھے، اور انکی سخاوتیں شہر میں مشہور تھیں، وہ ایک دن مصاحبوں کے ساتھ سرراہ اپنے کوٹھے پر بیٹھے تھے خاں صاحب کا ادھر سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا مومن خاں شاعر یہی ہیں، راجہ صاحب نے آدمی بھیج کر بلوایا، عزت و تعظیم سے بٹھایا (کچھ نجوم کچھ شعر و سخن کی باتیں کیں) اور حکم دیا کہ ہتنی کس کر لاؤ، ہتنی حاضر ہوئی وہ خاں صاحب کو عنایت کی۔ انھوں نے کہا کہ مہاراج میں غریب آدمی ہوں اسے کہاں سے کھلاؤں گا اور کیونکر رکھوں گا، کہا کہ سو (۱۰۰) روپیہ اور دو۔ خاں صاحب اسی پر سوار ہو کر گھر آئے اور پہلے اس سے کہ ہتنی روپے کھائے، اسے بیچ کر فیسلہ کیا (اسی موقع پر اوجؔ نے کہا تھا دیکھو صفحہ ۶۴۴) پھر خاں صاحب نے ایک قسیدہ مدحیہ شکریہ میں کہہ کر راجہ صاحب کو دیا جس کا مطلع ہے :

صبح ہوئی تو کیا ہوا، ہے وہی تیرہ اختری

کثرت دود سے سیاہ شعلہ شمع خاوری​

سوا اس قصیدہ کے اور کوئکی مدح کسی دنیا دار کے صلہ و انعام کی توقع پر نہیں لکھی۔ وہ اس قدر غیور تھے کہ کسی عزیز یا دوست کا ادنٰی احسان بھی گوارہ نہ کرتے تھے۔

راجہ کپور تھلہ نے انھیں ساڑھے تین سو (۳۰۰) روپیہ مہینہ کر کے بلایا اور ہزار روپیہ خرچ سفر بھیجا، وہ بھی تیار ہوئے، مگر معلوم ہوا کہ وہاں ایک گوئیے کی بھی یہی تنخواہ ہے، کہا کہ جہاں میری اور ایک گوئیے کی برابر تنخواہ ہو میں نہیں جاتا۔

جس طرح شاعری کے ذریعہ سے انھوں نے روپیہ نہیں پیدا کیا اسی طرح نجومؔ، رملؔ اور طبابت کو بھی معاش کا ذریعہ نہیں کیا۔ جس طرح شطرنج ان کی ایک دل لگی کی چیز تھی، اسی طرح نجوم رمل اور شاعری کو بھی ایک بہلاوا دل کا سمجھتے تھے۔

خاں صاحب پانچ چار دفعہ دہلی سے باہر گئے۔ اول رامپور اور وہاں جا کر کہا۔

دلی سے رام پور میں لایا جنوں کا شوق

ویرانہ چھوڑ آئے ہیں ویرانہ تر میں ہم​

دوسری دفعہ سہسواں گئے، وہاں فرماتے ہیں۔

چھوڑ دلی کو سہسواں آیا

ہرزہ گردی میں مبتلا ہوں میں​

جہانگیر آباد میں نواب مصطفےٰ خاں کے ساتھ کئی دفعہ گئے۔

ایک دفعہ نواب شائستہ خاں کے ساتھ سہارنپور گئے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دلی میں جو میسر تھا اسی پر قانع تھے، درست ہے۔ تصدیق اس کی دیکھو غالبؔ مرحوم کے حال میں۔

ان کی تیزی ذہن اور ذکاوت طبع کی تعریف نہیں ہو سکتی۔ وہ خود بھی ذہانت میں دو شخصوں کے سوا کسی ہمعصر کو تسلیم نہ کرتے تھے۔ ایک مولوی اسمٰعیل صاحب دوسرے خواجہ محمد نصیر صاحب کہ ان کے پیر اور خواجہ میر دردؔ کے نواسے تھے۔

اسی سلسلہ میں نواب مصطفےٰ خاں کی ایک وسیع تقریر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسا ذکی الطبع آج تک نہیں دیکھا۔ ان کے ذہن میں بجلی کی سی سرعت تھی وغیرہ وغیرہ۔ ساتھ اس کے مراسلت میں بعض اور معاملے منقول ہیں۔ مگر ان میں بھی واردات کی بنیاد نہیں لکھی۔ مثلاً یہ کہ مولا بخش قلقؔ مولوی امام بخش صہبائی کے شاگرد دیوان نظیریؔ پڑھتے تھے۔ ایک دن خاں صاحب کے پاس آئے اور ایک شعر کے معنے پوچھے۔ انھوں نے ایسے نازک معنے اور نادر مطلب بیان فرمائے کہ قلقؔ معتقد ہو گئے۔ اور انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب نے جو معنے بتائے ہیں وہ اس سے کچھ بھی نسبت نہیں رکھتے۔ ایسی باتوں کو آزادؔ نے افسوس کے ساتھ ترک کر دیا ہے۔ شفیق مکرم معاف فرمائیں۔

ان کی عالی دماغی اور بلند خیالی شعرائے متقدمین و متاخرین میں سے کسی کی فصاحت یا ۔۔۔۔۔۔۔ کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ یہ قول ان کا مشہور تھا کہ گلستانِ سعدی کی تعریف میں لوگوں کے دم چڑھے جاتے ہیں، اس میں ہے کیا؟ گفت گفت گفتہ اند کہتاچلا جاتا ہے۔ اگر ان لفظوں کو کاٹ دو تو کچھ نہیں رہتا۔ ایک دن مفتی صدر الدین خاں مرحوم کے مکان پر یہی تقریر کی۔ مولوی احمد الدین کرسانوالہ، مولوی فضل ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے شاگرد بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن شریف میں کیا فصاحت ہے۔ جابجا قالَ قالَ قالوا قالوا ہے۔

ان کے کسی شاگرد نے غزل میں یہ شعر لکھا تھا۔

ہجر میں کیوں کر پھروں ہر سو نہ گھبرایا ہوا

وصل کی شب کا سماں آنکھوں میں ہے چھایا ہوا​

خاں صاحب نے پہلے مصرع کو یوں بدل دیا۔

مصرعہ :اس طرف کو دیکھتا بھی ہے تو شرمایا ہوا​

اہل مذاق جانتے ہیں کہ اب شعر کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ ایک اور شخص نے الہٰی بخش کا سجع لکھا تھا۔

مصرعہ :"میں گنہگار ہوں الہٰی بخش"​

تاریخیں (ان تاریخوں کے لطف و نزاکت میں کلام نہیں لیکن اصول فن کے بموجب ۹ سے زیادہ کمی و بیشی جائز نہیں۔ اس انداز کے ایجاد داخل معّما ہیں۔) : تاریخ میں ہمیشہ تعمیہ اور تخرجہ معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مگر ان کی طبع رسا نے اسے محسنات تاریخ میں داخل کر دیا۔ چنانچہ اپنے والد کی تاریخ وفات کہی۔

بہ من الہام گشت سال وفات

کہ غلام نبی بہ حق پیوست​

غلام نبی کے اعداد کے ساتھ حق ملائیں تو پورے پورے سنہ فوت نکل آتے ہیں۔

اپنی صغیر سن بیٹی کی تاریخ وفات کہی۔

خاک بر فرق دولت دنیا

من فشاندم خزانہ برسرِ خاک​

خزانہ کے اعداد، سرِ خاک یعنی "خ" کے ساتھ ملانے سے ۱۳۶۳؁ھ ہوتے ہیں۔

تاریخ چاہ :

مصرعہ : آب لذت فزا بجام ہکَبیر​

آب لذت فزا کے اعداد، جام کے اعداد میں ڈالو تو ۱۳۶۵ھ حاصل ہوئے۔

ایک شخص زین خاں نامی حج کو گیا۔ رستہ میں سے پھر آیا۔ خاں صاحب نے کہا۔

مصرعہ : "چوں بیائد ہنوز خر باشد" (۱۳۶۵ھ)​

شاہ محمد اسحاق صاحب نے دلّی سے ہجرت کی، خان صاحب نے کہا۔

گفتم وحید عصر اسحاق

برحکم شہنشہ دو عالم


بگذاشتہ دار حرب امسال

جا کر وہ بہ مَکۃ مُعظَم​

وحید عصر اسحاق کے اعداد مکہ معطم کے اعداد کے ساتھ ملاؤ اور دار حرب کے اعداد اس میں سے تفریق کرو تو ۱۲۶۰؁ھ تاریخ ہجرت نکلتی ہے۔

ایک شخص قلعہ دلّی سے نکالا گیا تو انہوں نے تاریخ کہی۔

مصرعہ :"از باغ خلد بیروں شیطان بے حیا شد"​

باغ خلد کے اعداد میں سے شیطان بے حیا کے عدد نکال ڈالیں تو ۱۲۶۳؁ھ رہتے ہیں۔ سادی تاریخیں بھی عمدہ ہیں چنانچہ خلیل خاں کے ختنہ کی تاریخ کہی۔

"سنّت خلیل اللہ" اپنی عمّہ کے مرنے کی تاریخ کہی۔ لَھَا اَجرُ عَظیمُ۔

اپنے والد کی وفات کی تاریخ کہی۔ وَقَد فَاز فَوراً عَظیماً۔

اپنی بیٹی کی ولادت کی تاریخ کہی۔

نال کٹنے کے ساتھ ہاتف نے

کہی تاریخ دخترِ مومنؔ​

دختر مومنؔ کے اعداد میں سے نال کے اعداد کو اخراج کیا ہے۔

شاہ عبد العزیز صاحب کی وفات کی تاریخ۔

دستِ بے داد اجل سے بے سر و پا ہو گئے

فقر و دیں، فضل و ہنر، لطف و کرم، علم و عمل​

الفاظ مصرع آکر کے اول و آخر کو گرا دو بیچ کے حرفوں کے عدد لے لو تو ۱۲۳۹؁ھ رہتے ہیں۔ ان کے معمے بھی متعدد ہیں، مگر ایک لاجواب ہے ایسا نہیں سنا گیا۔

بنے کیونکر کہ ہے سب کار الٹا

ہم الٹے، بات الٹی، یار (یعنی مہتاب رائے) الٹا​

پہیلیاں بھی کہیں، ایک یہاں لکھی جاتی ہے کہ گھڑیال پر ہے۔

نہ بولے وہ جب تک کہ کوئی بلائے

نہ لفظ اور معنی سمجھ میں کچھ آئے


نہیں چور پر وہ لٹکتا رہے

زمانہ کا احوال بکتا رہے


شب و روز غوغا مچایا کرے

اسی طرح سے مار کھایا کرے​

کوٹھے سے گرنے کے بعد انہوں نے حکم لگایا تھا کہ ۵ دن یا ۵ مہینے، یا ۵ برس میں مر جاؤں گا، چنانچہ ۵ مہینے کے بعد مر گئے۔ گرنے کی تاریخ خود ہی کہی تھی۔ "دست و بازو بشکست" مرنے کی تاریخ ایک شاگرد نے کہی۔ "ماتم مومن" دلی دروازہ کے باہر میدھیوں کے جانب غرب زیر دیوار احاطہ مدفون ہوئے۔ شاہ عبد العزیز کا خاندان بھی یہیں مدفون ہے۔

روایت : مرنے کے بعد لوگوں نے عجیب عجیب طرح سے خواب میں دیکھا، ایک خواب نہایت سچّا اور حیرت انگیز ہے، نواب مصطفےٰ خاں نے دو برس بعد خواب میں دیکھا کہ ایک قاصد نے آ کر خط دیا کہ مومنؔ مرحوم کا خط ہے۔ انھوں نے لفافہ کھولا تو اس کے خاتمہ پر ایک مہر ثبت تھی جس میں مومنؔ جنتیؔ لکھا تھا، اور خط کا مضمون یہ تھی کہ آج کل میرے عیال پر مکان کی طرف سے بہت تکلیف ہے۔ تم ان کی خبر لو۔ صبح کو نواب صاحب نے دو سو روپے ان کے گھر بھیجے اور خواب کا مضمون بھی کہلا بھیجا، ان کے صاحبزادے احمد نصیر خاں سلمہ اللہ کا بیان ہے کہ فی الواقع ان دنوں میں ہم پر مکان کی نہایت تکلیف تھی، برسات کا موسم تھا اور مکان ٹپکتا تھا۔

اپنے شفیق مکرم کے الطاف و کرم کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے یہ حالات مرتب کر کے عنائت فرمائے لیکن کلام پر رائے نہ لکھی اور باوجود التجا مکرر کے انکار کیا۔ اس لئے بندہ آزاد اپنے فہم قاصر کے بموجب لکھتا ہے۔

غزلوں میں ان کے خیالات نہایت نازک اور مضامین عالی ہیں اور استعارہ اور تشبیہ کے زور نے اور بھی اعَلٰے درجہ پر پہنچایا ہے۔ ان میں معاملات عاشقانہ عجیب مزے سے ادا کئے ہیں۔ اسی واسطے جو شعر صاف ہوتا ہے اس کا انداز جرات سے ملتا ہے اور اس پر وہ خود بھی نازاں تھے۔ اشعار مذکورہ میں فارسی کی عمدہ ترکیبیں اور دل کش تراشیں ہیں کہ اردو کی سلاست میں اشکال پیدا کرتی ہیں۔ ان کی زبان میں چند وصف خاص ہیں جن کا جتانا لطف سے خالی نہیں۔ اکثر اشعار میں ایک شے کو کسی صفت خاص کے لحاظ سے ذات شے کی طرف نسبت کرتے ہیں اور اس ہیر پھیر سے شعر (بعض اشعار پر لوگوں کے اعتراض ہیں۔ ان کی تفصیل و تحریر ایک معمولی بات ہے۔ مثلاً شمر باتسکین ہے اور اسے شہر نصیحتیں باندھا ہے۔ مصرعہ : دل ایے شوخ کو مومنؔ نے دیدیا کہ جو بے پہ محب مسکین اور دل رکھے شِمر کا سا --- یا نوحہ مومنؔ کی نئی ترکیب ہے، اور ایسے ایجادات کے کلام میں اکثر ہیں۔ ) میں عجیب لطف بلکہ معانی پنہانی پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً

موئے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا
بلائے جاں ہے وہ دل جو بلائے جاں نہ ہوا

محو مجھ سا دمِ نظارہ جاناں ہو گا
آئینہ آئینہ دیکھے گا تو حیراں ہو گا

کیا رم نہ کرو گے اگر ابرام نہ ہو گا
الزام سے حاصل بجز الزام نہ ہو گا

روز جزا جو قاتلِ دل جو خطاب تھا
میرا سوال ہی مرے خوں کا جواب تھا

پسِ شکستن خم زجر محتسب معقول
گناہگار نے سمجھا گناہگار مجھے

نقد جاں تھا نہ سزائے دیت عاشق صد حیف
خون فرہاد سرِ گردن فرہاد مجھے​

اکثر عمدہ ترکیبیں اور نادر تراشیں فارسی کی اور استعارے و اضافتیں اردو میں استعمال کر کے کلام کو نمکین کرتے ہیں۔ مثلاً :

گر وہاں ہے یہ خموشی اثر افغاں ہو گا
حشر میں کون مرے حال کو پرساں ہو گا

یعنی فغانے کہ اثرش خموشی است۔

بیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسیٰ
اچھا نہ کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے

یعنی۔ بیارے کہ چارہ اش اجل است

وفائے غیرت شکر جفا نے کام کیا
کہ اب ہوس سے بھی اعدائے بوالہوس گزرے

ستم اے شور بختی میری ہڈی کیوں ہما کھاتا
سگ لیلٰی ادا کو گر نہ ظالم بدمزہ لگتی​

اکثر اہل اردو یہ طرز پسند نہیں کرتے لیکن اپنا اپنا مذاق ہے۔ ناسخؔ اور آتشؔ کے حال میں اس تقریر کو بہت طول دے چکا ہوں اور دوبارہ لکھنا فضول ہے۔

قصائد : اپنے درجہ میں عالی رتبہ رکھتے ہیں اور زبان کا انداز وہی ہے۔

مثنویاں : نہایت درد انگیز ہیں۔ کیوں کہ درد خیز دل سے نکلی ہیں۔ زبان کے لحاظ سے جو غزلوں کا انداز ہے وہی ان کا ہے۔

غزلیں

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
میری طرف بھی غمزہ غماز دیکھنا

اڑتے ہی رنگ رُخ مرا نظروں سے تھا نہاں
اس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا

دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں
اے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا

دیکھ اپنا حال ذرا منجم ہوا رقیب
تھا ساز گار طالع ناساز دیکھنا

بدکام کا مآل برا ہے جزا کے دن
حال سپر تفرقہ انداز دیکھنا

مت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم
پامال ہو نے جائے سر افراز دیکھنا

کشتہ ہوں اس کی چشم فسونگر کا اے مسیح
کرنا سمجھ کے دعوئے اعجاز دیکھنا

میری نگاہ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کو
بے طاقتی پہ سرزشِ ناز دیکھنا

ترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سے
مومنؔ غمِ مآل کا آغاز دیکھنا

  • -*-*-*-*


اشک و اژد نہ اثر باعثِ صد جوش ہوا
ہچکیوں سے میں یہ سمجھا کہ فراموش ہوا

جلوہ افروزی رخ کے لئے مے نوش ہوا
میں کبھی آپ میں آیا تو وہ بے ہوش ہوا

کیا یہ پیغامبرِ غیر ہے، اے مرغِ چمن
خندہ زن باد بہاری سے وہ گلگوش ہوا

ہے یہ غم گور میں رنج شب اجل سے فزوں
کہ وہ مہ رو مرے ماتم میں سیہ پوش ہوا

مجھ پہ شمشیر نگہ خود بخود آ پڑتی ہے
عاجز احوالِ زبوں سے وہ ستم کوش ہوا​

آفریں دل میں رہی خنجر دشمن کے سبب
اپنے قاتل سے خفا تھا کہ میں خاموش ہوا

درد شانہ سے ترا محو نزاکت خوش ہے
کہ میں ہمدوش ہوں گر غیر بھی ہمدوش ہوا

وہ ہے خالی تو یہ خالی یہ بھری تو وہ بھری
کاسئہ عمر عدد حلقہ آغوش ہوا

تو نے جو قہر خدا یاد دلایا مومنؔ
شکوہ جور بتاں دل سے فراموش ہوا

  • -*-*-*-*-*


گئے وہ خواب سے اٹھ غیر کے گھر آخر شب
اپنے نالہ نے دکھایا یہ اثر آخر شب

صبح دم وصل کا وعدہ تھا یہ حسرت دیکھو
مر گئے ہم دم آغاز سحر آخر شب

شعلہ آہ فلک رتبہ کا اعجاز تو دیکھ
اول ماہ میں چاند آئے نظر آخر شب

سوز دل سے گئی جاں بخت چمکنے کے قریب
کرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب

ملتے ہو غیر سے بے پردہ تم انکار کے بعد
جلوہ خورشید کا سا تھا کچھ ادھر آخر شب

صبح دم آنے کو وہ تھا کہ گواہی دیدے
رجعت قہقہری چرخ و قمر آخر شب

غیر نکلا ترے گھر سے گئی اس وہم میں جاں
غل ہوئے چور کے اس کوچے میں گر آخر شب

دی تسلی تو وہ ایسی کہ تسلی نہ ہوئی
خواب میں تو مرے آئے وہ مگر آخر شب

مو سفیدی کے قریب اور ہے غفلت مومنؔ
نیند آتی ہے بہ آرام دِگر آخر شب

  • -*-*-*-*-*-*-*


آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
ہے بوالہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو

اس بت کے لئے میں ہوس حور سے گزرا
اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو

چشمک مری وحشت ہے یہ کیا حضرت ناصح
طرز نگہِ چشم فسوں ساز تو دیکھو

اربابِ ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے
کم طالعےِ عاشق جانباز تو دیکھو​

مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ
بدنامی عشاق کا اعزاز تو دیکھو

محفل میں تم اغیار کے دزدیدہ نظر سے
منظور ہے پنہاں نہ رہے ساز تو دیکھو

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا چمک جائے ہے آواز تو دیکھو

دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو
اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو

جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے
جورِ اجل تفرقہ پرواز تو دیکھو

  • -*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*


دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہونگے
فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہونگے

ناوک انداز جدہر دیدہ جاناں ہونگے
نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بیجاں ہونگے

تاب نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہونگے

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہونگے

ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہونگے

کر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں
گر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشماں ہونگے

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہونگے

ہم نکالیں گے سن اے موج صبا بل تیرے
اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہونگے

صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں
چارہ فرما بھی کبھی قیدی زنداں ہونگے

منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لئے شرمندہ احساں ہونگے

تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے
گُل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہونگے

غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم
کیا کہیں اس کے سگِ کوچہ کے قرباں ہونگے

داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ
یہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہونگے​

چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں
ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہونگے

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہو گی
پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہونگے

سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنوں
وہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہونگے

عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہونگے

  • -*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*


خوشی نہ ہو مجھے کیونکر قضا کے آنے کی
خبر ہے لاش پہ اس بیوفا کے آنے کی

ہے ایک خلق کا خوں سر پہ اشک خوں کے مرے
سکھائی طرز اُسے دامن اٹھا کے آنے کی

سمجھ کے اور ہی کچھ مر چلا میں اے ناصح
کہا جو تو نے نہیں جاں جا کے آنے کی

امید سرمہ میں تکتے ہیں راہ دیدہ زخم
شمیم سلسہ مشکا کے آنے کی

چلی ہے جان، نہیں تو کوئی نکالو راہ
تم اپنے پاس تک اس مبتلا کے آنے کی

نہ آئے کیوں دلِ مرغ چمن کہ سیکھ گئی
بہار وضع ترے مسکرا کے آنے کی

مشام غیر میں پہنچی ہے نگہت گل و داغ
یہ بے سبب نہیں بندی ہوا کے آنے کی

جو بے حجاب نہ ہو گی تو جان جائے گی
کہ راہ دیکھی ہے اس نے حیا کے آنے کی

پھر اب کے لا ترے قربان جاؤں جذبہ دل
گئے ہیں یاں سے وہ سوگند کھا کے آنے کی

خیالِ زلف میں خود رفتگی نے قہر کیا
امید تھی مجھے کیا کیا بلا کے آنے کی

کروں میں وعدہ خلافی کا شکوہ کس کس سے
اجل بھی رہ گئی ظالم سُنا کے آنے کی

کہاں ہے ناقہ ترے کان بجتے ہیں مجنوں
قسم ہے مجھ کو صدائے درا کے آنے کی

مرے جنازہ پہ آنے کا ہے ارادہ تو آ
کہ دیر اٹھانے میں کیا ہے صبا کے آنے کی

مجھے یہ ڈر ہے کہ مومنؔ کہیں نہ کہتا ہو
مری تسلی کو روز جزا کے آنے کی​

از بس جنوں جدائی گل پیرہن سے ہے
دل چاک چاک نغمہ مرغِ چمن سے ہے

سرگرم مدحِ غیر دمِ شعلہ زن سے ہے
دوزخ کو کیا جلن مرے دل کی جلن سے ہے

روز جزا نہ دے جو مرے قتل کا جواب
وہم سخن رقیب کو اس کم سخن سے ہے

یاد آ گیا زبس کوئی مہروے مہروش
امید داغ تازہ سپہر کہن سے ہے

کچھ بھی کیا نہ یار کی سنگیں دلی کا پاس
سب کاوش رقیب دل کوہکن سے ہے

ان کو گمان ہے گلہ چین زلف کا
خوشبو دہانِ زخم جو مشک ختن سے ہے

میں کیا کہ مرگ غیر پہ دامانِ تر نہ ہو
وہ اشک ریز خندہ چاک کفن سے ہے

کیونکر نجات آتش ہجراں سے ہو کہ مرگ
آئی تو دور ہی تب و تاب بدن سے ہے

خود رفتگی میں چین وہ پایا کہ کیا کہوں
غربت جو مجھ سے پوچھو تو بہتر وطن سے ہے

رشک پری کہے سے عدو کے یہ وحشتیں
نفرت بلا تمھیں مرے دیوانہ پن سے ہے

داغ جنوں کو دیتے ہیں گل سے زبس مثال
میں کیا کہ عندلیب کو وحشت چمن سے ہے

کیوں یار نوحہ زن ہیں کہاں مرگ مجھکو تو
لب بستگی تصورِ بوس دہن سے ہے

کیا کیا جواب شکوہ میں باتیں بنا گیا
لو اب بھی دل درست اسی دلشکن سے ہے

اپنا شریک بھی نہ گوارا کرے بتو
مومنؔ کو ضد یہ کیسی ید برہمن سے ہے

  • -*-*-*-*-*-*-*-*-*


دعا بلا تھی شب غم سکون جاں کے لئے
سخن بہا نہ ہوا مرگ ناگہاں کے لئے

نہ پائے یار کے بوسے نہ آستاں کے لئے
عبث میں خاک ہوا میں آسماں کے لئے

خلاف وعدہ فردا کی ہم کو تاب کہاں
امید یکشیہ ہے پاس جاوداں کے لئے

سنیں نہ آپ تو ہم بوالہوس سے حال کہیں
کہ سخت چاہیے دل اپنے راز داں کے لئے​

حجاب چرخ بلا ہے ہوا کرے بیتاب
فغاں اثر کے لئے اور اثر فغاں کے لئے

ہے اعتماد مرے بخت خفتہ پر کیا کیا
وگرنہ خواب کہاں چشم پاسباں کے لئے

مزا یہ شکوے میں آیا کے بے مزا ہوئے وہ
میں تلخ کام رہا لذت زباں کے لئے

کیا ہے دل کے عوض جان دے رقیب تو دوں
میں اور آپ کی سوداگری زباں کے لئے

وہ لعل روح فزا دے کہاں تلک بوسے
کہ جو ہے کم ہے یہاں شوق جانفشاں کے لئے

ملے رقیب سے وہ جب سے وصال ہوا
دریغ جان گئی ایسے بدگماں کے لئے

کہاں وہ عیش اسیری کہاں وہ دام قفس
ہے بیم برق بلا روز آشیاں کے لئے

جنونِ عشق ازل کیوں نہ خاک اڑائیں کہ ہم
جہاں میں آئے ہیں ویرانی جہاں کے لئے

بھلا ہوا کہ وفا آزما ستم سے ہوئے
ہمیں بھی دینی تھی جاں اسکے امتحاں کے لئے

زواں فزائی سحر حلال مومنؔ ہے
رہا نہ معجزہ باقی لب بتاں کے لئے

  • -*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*