خدا شاہد بتو دو جگ سے یہ سودا ہے نروالا

خدا شاہد بتو دو جگ سے یہ سودا ہے نروالا
by ولی عزلت

خدا شاہد بتو دو جگ سے یہ سودا ہے نروالا
میں دو بادام چشم لطف پر دل بیچنے والا

دونو عالم سے مشرب مست وحدت کا ہے نروالا
مرے ایک ہاتھ میں تسبیح ہے اک ہاتھ میں پیالا

نہیں اس سال وہ خونیں نین بھورے الک والا
لگو لالا کو آگ اور ہو جو نا فرماں کا منہ کالا

وہ شیریں لب کا بوسہ کیونکے چھوڑے مجھ سا متوالا
کہ جوں لالہ بچھڑتے اس دہن سے داغ ہو پالا

نہیں فارغ میں بعد از مرگ بھی سوز محبت سے
مرا خوں دامن قاتل میں ہوگا داغ جوں لالا

وہ نا فرماں بنا خون جگر سے مے نہ پی عزلت
کباب دل کی بو آتی ہے ہر پیالے سے جوں لالا

This work was published before January 1, 1929, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.

Public domainPublic domainfalsefalse