دل شہید رہ دامان نہ ہوا تھا سو ہوا

دل شہید رہ دامان نہ ہوا تھا سو ہوا
by حیدر علی آتش

دل شہید رہ دامان نہ ہوا تھا سو ہوا
ٹکڑے ٹکڑے جو گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا

برق بے نور ہے اس رخ کی چمک کے آگے
عالم نور کا انساں نہ ہوا تھا سو ہوا

رونے پر میرے ہوا ہنس کے وہ گل شرمندہ
غنچہ ساں سر بہ گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا

میں نے رنگیں نہ کیا اس کا تڑپ کر دامن
سر جلاد پہ احساں نہ ہوا تھا سو ہوا

ہو گیا دیکھ کے قاضی بھی طرفدار اس کا
بے گنہ خون مسلماں نہ ہوا تھا سو ہوا

ہر زباں پر مری رسوائی کا افسانہ ہے
نسخۂ شوق پریشاں نہ ہوا تھا سو ہوا

عرق آلودہ جبیں دیکھ کے دل ڈوب گیا
شبنم باغ سے طوفاں نہ ہوا تھا سو ہوا

قتل کر کے مجھے تلوار کو توڑا اس نے
خون ناحق سے پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوا

یار کے روئے کتابی کی کروں کیا تعریف
بعد قرآں کے جو قرآں نہ ہوا تھا سو ہوا

آنسو آنکھوں سے نکلتا ہے سو چنگاری ہے
پردۂ دل سے نمایاں نہ ہوا تھا سو ہوا

آتش عشق سے ہے داغ سراپا میرا
آدمی سرو چراغاں نہ ہوا تھا سو ہوا

گرد رہ بن کے ہوا صندل پیشانیٔ یار
ذرہ خورشید درخشاں نہ ہوا تھا سو ہوا

پہروں ہی مصرع سودا ہے رلاتا آتشؔ
تجھے اے دیدۂ گریاں نہ ہوا تھا سو ہوا

This work was published before January 1, 1929, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.

Public domainPublic domainfalsefalse