متاع دل سے خالی ہو گئے ہیں

متاعِ دل سے خالی ہوگئے ہیں
ترے در کے سوالی ہو گئے ہیں

نظر مجروح نظاروں سے دیکھی
حوادث کچھ خیالی ہوگئے ہیں

چلو اے بلبلو اس گلستاں سے
یہاں صیاد مالی ہوگئے ہیں

تمہارے گیسوؤں کی تیرگی سے
اندھیرے بھی جمالی ہوگئے ہیں

ہمارے داغِ دل کے ترجماں ہیں
ستارے میرؔ و حالی ؔ ہوگئے ہیں

ہزاروں ولولے ساغرؔ چمن میں
خزاں کی خشک ڈالی ہوگئے ہیں

ساغر صدیقی