کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کر

کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کر
by نسیم دہلوی

کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کر
کبھی خاطر میں چھپ جاتا ہوں تیری آرزو ہو کر

کبھی کم ہو کے شرماتا ہوں مثل قطرہ ساغر میں
کبھی کثرت سے رک جاتا ہوں شیشے کا گلو ہو کر

بڑھا لیتا ہوں اکثر ربط یار پاک دامن سے
لپٹ جاتا ہوں دست و پا سے میں آب وضو ہو کر

سکونت سے بہت بڑھ کے ہے میری خانہ بردوشی
رہا کرتا ہوں ہر خاطر میں تیری جستجو ہو کر

نہیں ہے احتیاج غیر وقت جوش بیتابی
چھلک جاتا ہوں بے تکلیف ساقی میں سبو ہو کر

سکھائی ہے نئی تدبیر مجھ کو میری خاطر نے
پسند آتا ہوں دشمن کو بھی تیری گفتگو ہو کر

نہیں چلتی کوئی تدبیر کیا کیا فکر کرتے ہیں
میں کر دیتا ہوں قائل سب کو تیری گفتگو ہو کر

تقاضائے تمنا سے نہ اک جا دو گھڑی بیٹھے
پھرایا عمر بھر عالم میں تیری جستجو ہو کر

نہ کیوں کر شور ہو عالم میں میری فکر خاطر کا
دلوں کو کھینچ لیتا ہوں تمہارا رنگ رو ہو کر

نہیں ممکن کبھی تر دامنی میں فرق کچھ آئے
بہا کرتے ہیں اشک چشم میرے آب جو ہو کر

نشاں کیا پوچھتے ہو بے نشانوں کے ٹھکانوں کا
دماغوں میں رہا کرتا ہوں میں گیسو کی بو ہو کر

کبھی ملک حلب میں ہوں کبھی شہر ختن میں ہوں
نہیں رہتا تری شہرت کی صورت ایک سو ہو کر

خراش زخم سینہ مدتوں کا دور کرتا ہوں
لپٹ جاتا ہوں جب شانے سے زلف مشک بو ہو کر

کمی میں بھی مری ہستی کی ہستی اور پیدا ہے
کبھی ابرو بھی بن جاتا ہوں قصر آبرو ہو کر

اٹھا لیتا ہوں جو آئے مصیبت اپنے سر پر میں
سہا کرتا ہوں ظلم دل ربا عاشق کی خو ہو کر

بھلی کو بھی سمجھتا ہوں بری ہر دوست دشمن کی
نہیں قابو میں میں رہتا مزاج جنگ جو ہو کر

مرے سوز دروں میں سو طرح کے لطف حاصل ہیں
جلاتا ہوں دلوں کو یاد یار شمع رو ہو کر

لہو سے پیرہن تر دیکھ کر یاروں نے فرمایا
نسیمؔ آیا ہے کوئے یار سے کیا سرخ رو ہو کر

This work was published before January 1, 1929, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.

Public domainPublic domainfalsefalse