کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا

کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا
by احمد حسین مائل

کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کا
روزہ نہ ٹوٹ جائے کسی روزہ دار کا

ان کا وہ شوخیوں سے پھڑکنا پلنگ پر
وہ چھاتیوں پہ لوٹنا پھولوں کے ہار کا

حور آئے خلد سے تو بٹھاؤں کہاں اسے
آراستہ ہو ایک تو کونا مزار کا

شیشوں نے طرز اڑائی رکوع و قیام کی
کیا ان میں ہے لہو کسی پرہیزگار کا

کیوں غش ہوئے کلیم تجلی طور پر
وہ اک چراغ تھا مرے دل کے مزار کا

بعد فنا بھی صاف نہیں دل رقیب سے
گنبد کھڑا ہوا ہے لحد پر غبار کا

کثرت کا رنگ شاہد وحدت کا ہے بناؤ
وہ ایک ہی سے نام ہے ہژدہ ہزار کا

ناقوس بن کے پوچھنے جاؤں اگر مزاج
بت بھی کہیں گے شکر ہے پروردگار کا

دولہا کی یہ برات ہے رسمیں ادا کرو
در پر جنازہ آیا ہے اک جاں نثار کا

کیا کیا تڑپ تڑپ کے سرافیل گر پڑے
دم آ گیا جو صور میں مجھ بے قرار کا

سرمہ کے ساتھ پھیل کے کیا وہ بھی مٹ گیا
کیوں نام تک نہیں تری آنکھوں میں پیار کا

کیا رات سے کسی کی نظر لگ گئی اسے
اچھا نہیں مزاج دل بے قرار کا

آنکھیں مری فقیر ہوئیں شوق دید میں
تسمہ کمر میں ہے نگۂ انتظار کا

لوٹوں مزے جو بازیٔ شطرنج جیت لوں
اس کھیل میں تو وعدہ ہے بوس کنار کا

اللہ مرا غفور محمد مرے شفیع
مائلؔ کو خوف کچھ نہیں روز شمار کا

This work was published before January 1, 1929, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.

Public domainPublic domainfalsefalse