عشق نہیں کوئی نہنگ ہے یارو

عشق نہیں کوئی نہنگ ہے یارو
by شیخ ظہور الدین حاتم

عشق نہیں کوئی نہنگ ہے یارو
دشمن نام و ننگ ہے یارو

صبر بن اور کچھ نہ لو ہم راہ
کوچۂ عشق تنگ ہے یارو

شمع رو پر نہ ہوئے کیوں کر ڈور
دل ہمارا پتنگ ہے یارو

بات اوس طفل خو کی رمزآمیز
مج دوانے کو سنگ ہے یارو

تل ہے تریاک چشم جام شراب
سبزۂ خط یو بنگ ہے یارو

زلف کا دل ربا کی آج خیال
دل کوں قید فرنگ ہے یارو

اوس پری رو سیں اور حاتمؔ سیں
رات دن صلح و جنگ ہے یارو

This work was published before January 1, 1929, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.

Public domainPublic domainfalsefalse