کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے

کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے
by بہرام جی

کفر ایک رنگ قدرت بے انتہا میں ہے
جس بت کو دیکھتا ہوں وہ یاد خدا میں ہے

عاشق ہے جو کہ جامۂ صدق و صفا میں ہے
معشوق ہے جو پردۂ حلم و حیا میں ہے

عالم ہے مست سجدۂ جاناں میں تا ابد
مستی بلا کی بادۂ قالو بلیٰ میں ہے

ایماں ہے عکس رخ تو ہے گیسو کا عکس کفر
وہ کون چیز ہے جو تری ماسوا میں ہے

ابرو کے محو کعبے میں صورت کے دیر میں
عشاق رخ کا سلسلہ نور و ضیا میں ہے

بے جلوہ گاہ یار کہاں یہ رجوع خلق
بحث فضول برہمن و پارسا میں ہے

جویا ہے بس کہ عارض و گیسوئے یار کا
پابند شیخ سجدۂ صبح و مسا میں ہے

رفتار معجزہ ہے تو ہے سحر چال میں
شوخی عجب طرح کی ترے نقش پا میں ہے

تیری طرف کو مسلم و کافر کی ہے رجوع
پوجا میں برہمن ہے تو زاہد دعا میں ہے

مقتول لاکھوں ہو چکے شائق ہزارہا
لذت عجیب یار کی تیغ جفا میں ہے

اک پیچ و خم میں گبر و مسلماں ہیں مبتلا
وسعت بلا کی یار کی زلف رسا میں ہے

بہرامؔ عاشقانہ غزل ایک اور بھی
قوت ابھی بہت تری فکر رسا میں ہے

This work was published before January 1, 1929, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.

Public domainPublic domainfalsefalse